آتشزدگی سے 30 زیادہ افراد زخمی ہیں جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،..60.. سے زیادہ افرا د کے لاپتہ ہونے کا کا خد شہ ہے.  آگ پر 77 فیصد تک قابو پا لیا گیا۔

(کراچی گل پلازہ آتشزدگی)   کو شش کے باوجود اگ بے قابو ( فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق)

گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی آگ میں مرنے والوں کی شناخت 40 سالہ کاشف، 55 سالہ فراز، 30 سالہ عامر، 28 سالہ عامر اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے، درجنوں زخمیوں میں سے گیارہ افراد کی حالت تشویشناک ہے، شہید فائر فائٹر کی شناخت فرقان علی کے نام سے ہوئی۔ 

صدر زرداری اور وزیراعظم نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرین کو ہرممکن امداد فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔بلاول بھٹو زرداری نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور واقعے کی فوری تحقیقات، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی ہدایت بھی کی۔

کراچی: گل پلازہ میں آتشزدگی سے فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق، عمارت میں دراڑیں، ایک حصہ منہدم
whatsapp sharing button
کراچی: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) شہرِ قائد کے ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں گزشتہ شب لگنے والی آگ تاحال بے قابو ہے، فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 30 سے زیادہ افراد زخمی ہیں جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، آگ سے عمارت میں دراڑیں پڑ گئیں، ایک حصہ منہدم ہوگیا، جبکہ پوری عمارت زمین بوس ہونے کا خدشہ ہے، ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق آگ پر 77 فیصد تک قابو پا لیا گیا۔

گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی آگ میں مرنے والوں کی شناخت 40 سالہ کاشف، 55 سالہ فراز، 30 سالہ عامر، 28 سالہ عامر اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے، درجنوں زخمیوں میں سے گیارہ افراد کی حالت تشویشناک ہے، شہید فائر فائٹر کی شناخت فرقان علی کے نام سے ہوئی۔

عمارت گل پلازہ میں دو الگ الگ شادیوں کی شاپنگ کے لیے آنے والے دو خاندانوں کے 12 افراد بھی لاپتا ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ایم اے جناح روڈ پر آتشزدگی کی شکار عمارت کے باہر موجود ورثا کا کہنا ہے کہ …60.. سے زیادہ افراد کے لاپتہ ہو نے کا خد شہ ہے

گل پلازہ

لاپتا خواتین کو ڈھونڈنے آئے ماموں اور مامی نے بتایا کہ ان کی فیملی قریب میں رہتی ہے، خاتون کے مطابق گل پلازہ آگ میں ان کے 6 رشتہ دار لاپتا ہیں جن میں دلہن کرن کی ماں کوثر، ان کا اکلوتا بیٹا سعد، بھائی اشرف اور لڑکی مصباح بھی شامل ہیں۔ ورثا نے لاپتا خواتین کو اسپتالوں میں بھی تلاش کر لیا لیکن وہ کہیں نہیں ملے، نہ ہی جاں بحق افراد کی فہرست میں ان کے نام ہیں۔ شادی کی خریداری کے لیے گل پلازہ جانے والے ایک اور خاندان کے 6 افراد بھی لاپتا ہیں، جن میں 45 سالہ تنویر احمد، 42 سال کے عمر نبیل، 33 سال کی عائشہ سمیع، 18 سالہ عبداللہ، 15 سالہ سفیان اور 11 سالہ علی بن عمر شامل ہیں۔ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں آتشزدگی کے پیش نظر عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم کر دی گئی۔  اس حوالے سے ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات یا گمشدگی کی اطلاع ڈی سی ساؤتھ کو دی جائے، اطلاعات 03135048048، 02199206372 اور 02199205625 پر دی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا ہے، آگ کے باعث 6 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

آگ کی وجہ سے عمارت کی حالت مخدوش ہو چکی ہے، ستون کمزور ہوچکے ہیں، عمارت کے کئی حصے گر چکے ہیں جن میں عقبی حصہ بھی شامل ہے، عمارت انتہائی پرانی اور بوسیدہ ہونے کے سبب ساری زمین بوس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ عمارت میں کپڑے، کراکری، پرفیوم، میک اپ ، الیکٹرانکس، کھلونوں سمیت دیگر دکانیں تھیں، تین منزلہ عمارت میں 12 سو سے زائد دکانیں قائم تھیں، آگ سے گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے، بالائی دو منزلوں پر بھی آگ لگی ہوئی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا فائر ٹینڈر بھی مدد کے لیے پہنچ چکا ہے، ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن میں پاک بحریہ کی اسنارکلز اور دو فائرٹینڈر بھی شامل ہیں، امدادی کام میں سندھ رینجرز اور کے ایم سی بھی شریک ہیں۔  عمارت میں ہوا کا راستہ نہ ہونے اور کھڑکیاں بند ہونے سے عمارت میں دھویں بھرگیا، شدید دھویں، ہنگامی اخراج کا راستہ نہ ہونے ، پانی کی کمی کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، رات گئے گل پلازہ کے سامنے لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے بھی گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات ہوئیں۔

کراچی (18 جنوری 2026): گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی کے باعث کئی افراد تاحال لاپتا ہیں تاہم 40 افراد کی فہرست سامنے

سی او و 1122 سندھ ڈاکٹر عابد جلال نے بتایا ہے کہ ہمیں 10بجکر38منٹ پر پہلی کال موصول ہوئی، ہم نے فوراً ریسکیو کی 2اورکے ایم سی کی گاڑیاں بھیجیں، تقریباً 22فائرٹینڈرز نے آپریشن میں حصہ لیا، کے ایم سی کے 4اسنارکل نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔

ڈاکٹر عابد جلال نے کہا کہ کمرشل پلازے کی دکانوں میں کیمیکل کا سامان بہت زیادہ تھا، ہمیں آگ پر قابوپانے میں بہت وقت لگ گیا، آگ کی شدت کے باعث پلازے کا پچھلا حصہ بھی منہدم ہوچکا ہے، آگ پر 77فیصد تک قابو پالیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائرفائٹنگ کا عمل جاری ہے، ٹائم فریم نہیں دے سکتے، آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل شروع ہوگا، پراسیس مکمل کرنے میں 2سے3روز لگ سکتے ہیں، پلازے کا سٹرکچر انتہائی مخدوش حالت میں ہے، آج صبح ہمارا ایک فائر فائٹر ریسکیو عمل کے دوران شہید ہوا ہے۔

ڈاکٹر عابد نے بتایا کہ جہاں تک ہماری رسائی ہے وہاں تک آگ پر قابوپالیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے تحقیقات کے احکامات جاری کردیئے ہیں، ترجیح ہے آپریشن کو مکمل کریں، پلازے کا پچھلا حصہ مکمل طور پر منہدم ہوچکا ہے۔

کراچی کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے کہا ہے کہ یہ تیسرے درجے کی آگ ہے، ہمارا ایک فائر فائٹر فرقان علی شہید ہو چکا ہے، کولنگ کے عمل میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں، آخری چنگاڑی تک بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، آگ پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا تھا، عمارت کا ایک حصہ گرنے سے دھماکہ ہوا اور آگ بے قابو ہو گئی۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے کہا کہ فائرفائٹنگ اورریسکیو کا عمل جاری ہے، پلازے میں تقریباً 2ہزارسے زائد دکانیں موجود ہیں، ہمیں رات10بجکر27منٹ پر آگ کی اطلاع ملی، پورے کراچی سے 14گاڑیاں،3اسنارکل اور2باؤزر یہاں پہنچے۔

ہمایوں خان نے واضح کیا کہ ہم نے آگ پر کافی حد تک قابو پالیا تھا، پھرز پلازے کا ایک حصہ اچانک منہدم ہوا جس میں ایک فائرفائٹر بھی ملبے تلے دب گیا ، کولنگ کے پراسیس میں 3سے4دن لگ سکتے ہیں، اطلاع ملنے کے بعد 2منٹ کے اندر آگ بجھانے والی گاڑی روانہ کرد ی جاتی ہے۔

قبل ازیں فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ آگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، آگ نے مزید کئی دکانوں کو لپیٹ میں لے لیا، 20 سے زائد گاڑیوں کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ اسنارکل کی مدد سے لوگوں کو پلازے سے باہر نکالا جا رہا ہے۔

فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کرلی، جس کے بعد نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، شاپنگ پلازہ میں کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے، آگ شاپنگ پلازہ کے میزنائن فلور پر لگی ہے، شاپنگ پلازہ گراؤنڈ، میزنائن پلس 2 فلور پر مشتمل ہے۔

سندھ رینجرز کے جوان بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، ترجمان رینجرز کے مطابق امدادی آپریشن مکمل ہونے تک رینجرز کے افسران اور جوان جائے وقوعہ پر موجود رہیں گے، فائر ٹینڈرز کے ساتھ ساتھ رینجرز کے جوان پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے اور قیمتی سامان کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ عمارت کے گرد ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے بھی رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی، انسانی جانوں کا تحفظ اور آگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اولین ترجیح ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے آگ لگنے سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور وزیراعلیٰ سندھ و میئر کراچی کو آگ بجھانے کیلئے تمام وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور واقعے کی فوری تحقیقات، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی ہدایت بھی کی۔

وزیر داخلہ سندھ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ عمارت میں لگی آگ کو پھیلنے سے روکا جائے، اور آگ لگنے کی وجوہات کا پتا لگایا جائے، انہوں نے شہریوں کے فوری انخلاء کیلئے متبادل روٹس لگانے کی بھی ہدایت کی۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے باعث جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں غمزدہ لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کے تمام محکموں کو الرٹ رہنے اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ادارے، پاک بحریہ، کے ایم سی کا عملہ آگ بجھانے میں مصروف ہے، فائر فائٹرز پلازے میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

انہوں نے بتایا کہ آگ سے 5 لوگ جاں بحق اور 20  سے زائد زخمی ہوئے، کچھ زخمیوں کو ہسپتال سے ڈسچارج کیا جا چکا ہے، اولین کوشش ہے کہ آگ پر فوری قابو پایا جاسکے، یہ تیسرے درجے کی آگ ہے، پلازے میں کیمیکل،کپڑا اورپلاسٹک اشیا موجود ہیں، ریسکیو، فائربریگیڈ عملہ، وفاقی و صوبائی ادارے آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

سعدیہ جاوید نے کہا کہ ریسکیو عملے نے بتایا ہے آگ پر 40 فیصد تک قابو پایاجاچکا، اس وقت تین ہائیڈرنٹ پانی پہنچانے میں مصروف عمل ہیں، ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن کی کنسٹرکشن جاری ہے، پانی کے ٹینکرز کو تھوڑا دور سے آنا پڑرہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پلازے میں موجود 7دروازوں میں سے صرف 2کھلے تھے، جس کی بھی غفلت ہوگی اس کیخلاف کارروائی ہوگی، چیئرمین بلاول بھٹو نے خود وزیراعلیٰ سندھ سے بات کی اورہدایات جاری کیں، ہر چیز پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، منعم ظفر ہر چیز پر سیاست کرتے ہیں۔

صدر، وزیراعظم کا پلازہ آتشزدگی پر اظہارِ افسوس، متاثرین کی ہر ممکن امداد کا حکم
whatsapp sharing button
facebook sharing button
دوسرا انٹرو twitter sharing button

 صدرمملکت آصف علی زرداری نے آتشزدگی کے افسوسناک واقعہ پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور لواحقین سےدلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت اورمتعلقہ ادارے متاثرہ افراد اور تاجروں کو فوری اور ہرممکن امداد فراہم کریں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے زخمی افراد کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیز کرنے کا حکم دیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

وزیراعظم نے متاثرہ تاجروں اور دیگر افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام کریں، جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں حکومت برابر کی شریک ہے۔

وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار بھی کیا، وزیراعظم نے شہریوں کی جان بچاتے جام شہادت نوش کرنے والے ریسکیو اہلکار فرقان علی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔

دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے گل پلازہ آتشزدگی کا واقعہ بہت افسوسناک ہے، جاں بحق افراد کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ حکومتی مشینری رات گئے سے موجود ہے، آگ بجھانے کی کوشش کر رہی ہے، پانی اور فوم کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، متعلقہ اداروں کی کوتاہی نظر آئی تو کارروائی کی جائے گی، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ آنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچیں گے، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کو قیمت ادا کرنا پڑے گی۔