..4…(سانحہ گل پلازہ تحقیقاتی رپورٹ ) گراؤنڈ فلور پر ایک بچے کے ہاتھوں آگ لگی
رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے مرتب کی ہے جسے کمشنر کراچی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کریں گے۔
رپورٹ میں گل پلازہ میں آتشزدگی کی وجوہات، آگ بجھانے کے اقدامات اور ریسکیو آپریشن سے متعلق مکمل تفصیلات شامل کی گئی ہیں،
ایم کیو ایم نے سانحہ گُل پلازہ پر سندھ حکومت کی پیش کردہ رپورٹ مسترد کردی

ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے مرتب کی ہے جسے کمشنر کراچی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں گل پلازہ میں آتشزدگی کی وجوہات، آگ بجھانے کے اقدامات اور ریسکیو آپریشن سے متعلق مکمل تفصیلات شامل کی گئی ہیں، اس کے علاوہ متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل کردہ معلومات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر واقع فلاور شاپ میں ایک بچے کے ہاتھوں آگ لگی جو تیزی سے پھیل گئی اور ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کے ذریعے مختلف حصوں تک پہنچ گئی، اس سانحے میں مجموعی طور پر 79 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے زیادہ تر اموات گل پلازہ کے میزنائن فلور پر ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی جبکہ فائر بریگیڈ کو واقعے کی اطلاع رات 10 بج کر 26 منٹ پر دی گئی۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی رات 10 بج کر 30 منٹ پر موقع پر پہنچے، پہلا فائر ٹینڈر 11 منٹ بعد رات 10 بج کر 37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا جبکہ ریسکیو 1122 کا عملہ رات 10 بج کر 53 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچا۔
ایم کیو ایم نے سانحہ گُل پلازہ پر سندھ حکومت کی پیش کردہ رپورٹ مسترد کردی

ترجمان ایم کیو ایم نے کہا کہ اتنے بڑے سانحہ کا ذمہ دار کسی معصوم بچے کو قرار دینا مضحکہ خیز ہے، سندھ حکومت ہی بتادے کہ جس بچے کو سانحہ کا ذمہ دار قرار دیا ہے وہ زندہ ہے یا حکومت کی بھینٹ چڑ گیا؟۔
سندھ حکومت کا اپنی بدترین نااہلی اور کرپشن ایک معصوم کے پیچھے چھپا رہی ہے، بچے کو آگ لگانے کا ذمہ دار قرار دینے والی سندھ حکومت یہ بتائے کہ تین دن تک آگ کیوں نہیں بجھائی گئی؟ کراچی کی بدولت اربوں روپے کے بجٹ رکھنے والی سندھ حکومت کا کوئی ایک ادارہ اس قابل نہیں تھا کہ آگ پر قابو پایا جاسکتا۔
ترجمان ایم کیو ایم نے کہا کہ سانحہ گُل پلازہ میں بدترین پیشہ وارانہ اور مجرمانہ غفلت کے باعث اموات میں اضافے کی ذمہ دار صرف سندھ حکومت ہے، سندھ حکومت سانحہ گُل پلازہ کی ملزم بھی ہے مدعی بھی، محقق بھی اور منصف بھی۔
ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے کلاز 3 کے تحت اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیشن تشکیل دی جائے۔





