قرداد میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بہادری اور جذبۂ خدمت کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی گئی کہ پارلیمان قومی سلامتی کے تحفظ، استحکام کے قیام اور ملک بھر میں امن کے تسلسل کے لیے افواجِ پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تین ہزار ایک سو اکتالیس اہلکار، جن میں افسران، جونیئر کمیشنڈ افسران اور جوان شامل ہیں، اس جنگ میں شہید ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شہداء ملک کے تمام علاقوں سے تعلق رکھتے تھے.قومی اسمبلی میں خطاب
aslam
بدھ کے روز قومی اسمبلی (این اے) نے ایک قرارداد منظور کی جس میں پاکستان کی مسلح افواج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی بے مثال قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
قرارداد میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بہادری اور جذبۂ خدمت کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی گئی کہ پارلیمان قومی سلامتی کے تحفظ، استحکام کے قیام اور ملک بھر میں امن کے تسلسل کے لیے افواجِ پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا، جس میں انہوں نے پاک فوج سے متعلق ریمارکس دیے تھے۔ خواجہ آصف نے ان بیانات کو نہایت غیر ذمہ دارانہ اور قومی ادارے کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نظریات رکھیں لیکن اٹیک نہ کریں، پاک فوج کسی صوبے یا ضلعے کی فوج نہیں ہے، دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں، جبکہ بلوچستان میں 200 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں خون خرابے کی کوئی اجازت نہیں ہے، ہمارے فوجیوں کی گردنیں تنوں سے جدا کر دی جاتی ہیں، پاک فوج اپنے خون سے اپنے حلف کی تائید کر رہے ہیں، ہم سیاستدان گرے ایریاز میں رہ رہے ہوتے ہیں، ہم پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن ان شہیدوں نے پارٹیاں نہیں بدلیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہم اپنے مفادات اور اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں، اگر میں خون سے کھینچی ہوئی لکیر کراس کرتا ہوں تو ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجابیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابی مزدوروں کو قتل کیا جاتا ہے، لیکن اس کو صوبائیت کا رنگ نہیں دیا گیا، میرے اعداد و شمار کو چیلنج کریں کہ یہ چار ضلعوں کی فوج ہے، اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان اس عہدے کی تذلیل ہے، یہ پورے قوم کی جنگ ہے، کسی ضلع کی نہیں۔ انہوں نے فوج میں مختلف صوبوں اور اقلیتی برادریوں کی نمائندگی سے متعلق اعداد و شمار بھی ایوان کے سامنے رکھے اور کہا کہ پاک فوج پورے پاکستان کی فوج ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تین ہزار ایک سو اکتالیس اہلکار، جن میں افسران، جونیئر کمیشنڈ افسران اور جوان شامل ہیں، اس جنگ میں شہید ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شہداء ملک کے تمام علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا غیر ذمہ دارانہ بیان ان عظیم قربانیوں کو کم تر ثابت کرنے کی ایک کوشش ہے . انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب ایک باوقار عہدہ ہے لیکن ایسے بیانات اس منصب کے وقار کے منافی ہیں۔
خواجہ آصف نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک صوبے یا ضلع تک محدود نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان شہداء کے مقروض ہیں جنہوں نے ہماری سلامتی اور حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
ادھر قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے تحت ادارے عوام میں معلوماتی شعور، میڈیا سے آگاہی اور ڈیجیٹل لٹریسی کو فروغ دینے کے لیے مختلف نوعیت کی سرگرمیاں اور اقدامات کر رہے ہیں۔
سوال و جواب کے سیشن کے دوران اطلاعات و نشریات کے پارلیمانی سیکرٹری دانیال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ پریس کونسل آف پاکستان انٹرن شپ پروگرامز اور سیمینارز کے ذریعے میڈیا لٹریسی کے فروغ میں کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان ملک بھر میں خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں میڈیا اور معلوماتی لٹریسی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی نشریاتی ادارہ اپنی نشریات میں ذمہ دارانہ معلومات کے استعمال، ڈیجیٹل آگاہی اور غلط معلومات (misinformation) کے تدارک جیسے موضوعات کو تینیس (23) زبانوں میں نشر ہونے والے مختلف پروگراموں میں شامل کرتا ہے۔




