سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کر رہے تھے، نے پنجاب حکومت کی وہ درخواستیں سماعت کے لیے لیں جو 9 مئی اور دیگر متعلقہ مقدمات میں پی ٹی آئی بانی اور ان کی اہلیہ کو دی گئی ضمانت کے خلاف دائر تھیں۔

 پنجاب حکومت کے نمائندہ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ہدایت ملی ہے کہ وہ ان اپیلوں پر اصرار نہ کریں، اس لیے انہیں واپس لینے کی اجازت دی جائے۔  سپریم کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کے خلاف دائر تمام اپیلیں واپس لی گئیں قرار دے کر نمٹا دیں۔

جسٹس کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر سزا معطل ہو جائے تو پھر کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، جس میں انتخابات میں حصہ لینا بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید دریافت کیا کہ جب سزا معطل ہو جاتی ہے تو کیا ملزم جیل میں ہی رہے گا یا اسے رہا کیا جائے گا؟  کھوسہ نے جواب دیا کہ سزا معطل ہونے کے بعد متعلقہ شخص کو رہا کیا جاتا ہے۔

پنجاب حکومت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کیخلاف اپیلیں واپس لے لیں
whatsapp sharing button
اسلام آباد: (خصوصی رپورٹر ) پنجاب حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی بانی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کے خلاف تمام اپیلیں واپس لے لیں. لے لیں . بدھ کے روز پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی تمام اپیلیں واپس لے لیں جو سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ضمانت دینے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔