خطے میں جنگ کا دوسرا مہینہ شروع ہو گیا ہے، شہادتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، شعلے ٹھنڈے کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے. پاکستان جنگ رکوانے کے لیے کوشش کر رہا ہے. اجلاس سے خطاب.

lead (مشرقِ وسطیٰ کشیدگی)  ترقیاتی منصوبے روکنے کا حکم  (وزیراعظم محمد شہباز شریف)

اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم معاملات زیر غور آئے، وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ 

جنگ کی وجہ سے بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، خطے میں ضرور امن قائم ہوگا، سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام آئے گا، پاکستانی پرچم برادر 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کا انتظام کیا ہے، اجتماعی اور بھر پور کاوشوں سے چیلنجز کو جانچا گیا اور بروقت اقدامات اٹھائے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: وفاق اور صوبے جو ترقیاتی منصوبے روک سکتے ہیں، روک دیں، وزیراعظم

خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت انتہائی اہم اجلاس ہوا جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وفاقی کابینہ کے ارکان شریک ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ رکوانے کے لیے کوشش کر رہا ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، آبنائے ہرمز سے دو تیل بردار جہازوں کی آمد میں نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشیں شامل ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ دوسرے ممالک کی طرح پاکستان بھی حالیہ جنگ سے متاثرہو رہا ہے، جنگ کے آغاز سے قبل ہماری ٹیم نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات اور مشاورت کی، 60 فیصد گاڑیوں کو روک دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، خطے میں ضرور امن قائم ہوگا، سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام آئے گا، پاکستانی پرچم برادر 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کا انتظام کیا ہے، اجتماعی اور بھر پور کاوشوں سے چیلنجز کو جانچا گیا اور بروقت اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت آصف زرداری، بلاول بھٹو، وزرائے اعلیٰ اور پارلیمنٹیرینز کے کردار کو سراہتے ہیں، کابینہ ارکان نے دو ماہ کی تنخواہیں رضا کارانہ طور پر سرنڈر کیں، پارلیمنٹیرینز نے تیل کی بچت کو یقینی بنایا، گزشتہ تین ہفتوں میں وفاق نے پی ایس ڈی پی میں سو ارب روپے کا کٹ لگایا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ جنگی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے وزرائے اعلیٰ نے تعاون کی یقین دہانی کرائی،  مشکل صورتحال میں غریب کو تحفظ دینا اور اشرافیہ کو قربانی کا مظاہرہ کرنا ہے، وفاق اور صوبے قومی ترقی اور خوشحالی کے جو منصوبے روک سکتے ہیں انہیں روکیں۔

انہوں نے کہا کہ فنڈز بچا کر غریب لوگوں کو تحفظ دینے پر خرچ کئے جائیں، سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام یقینی ہوگا، ہماری توجہ کمزور اور مفلوک الحال طبقات کو تحفظ دیے پر مرکوز ہے، مہنگائی پر قابو پانا ترجیحات میں شامل ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس کے دوران خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے ممکنہ بحران پر غور کیا گیا، حکومت کے کفایت شعاری اقدامات اور توانائی کی بچت سے متعلق مجوزہ اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم معاملات زیر غور آئے، وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

اس موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دورہ چین پر بریفنگ دی، ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے متعلق آگاہ کیا۔