امریکا نے ناکا بندی کا اعلان کیا جو ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے، دوسرے ممالک آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں مگر ہم نہیں؟یہ ناممکن ہے۔ دشمن اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا تو وہ ناکام ہوگیا، دشمن سمجھتا تھا ایران 2 سے 3 روز میں ہتھیار ڈال دے گا، ہم نے 40 روز جنگ لڑی۔ اسپیکر پارلیمنٹ
لیڈ ( امریکا ایران کشیدگی ) جنگ کا باعزت خاتمہ چاہتے ہیں ( صدر مسعود پزشکیان )
ٹرمپ کو کوئی حق نہیں کہ وہ عوام کو اس کے حقوق سے روکے، ٹرمپ کو حق نہیں کہ وہ کہے ایران اپنے جوہری حقوق سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ ایران کو ایٹمی حق سے محروم کرنےکا صدر ٹرمپ کے پاس کوئی جواز نہیں،ہمارا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہے۔ مسعود پزشکیان
دشمن سمجھتا تھا ایران بھی وینزویلا جیسا ہوگا، یہ بھی نہ ہوا، امریکا نے نیٹو کو شریک کرنے کی کوشش کی اس میں بھی کسی نے ساتھ نہیں دیا، جنگ میں دشمن کے 170سے 180 ڈرونز نشانہ بنائے، امریکا کا ایف 35 لڑاکا طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا جو معمولی بات نہیں۔ سپیکر ایران
ایک انٹرویو میں باقر قالیباف نے بتایا کہ امریکا سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے،لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے، دشمن اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا تو وہ ناکام ہوگیا، دشمن سمجھتا تھا ایران 2 سے 3 روز میں ہتھیار ڈال دے گا، ہم نے 40 روز جنگ لڑی۔

انہوں نے کہا کہ دشمن سمجھتا تھا ایران بھی وینزویلا جیسا ہوگا، یہ بھی نہ ہوا، امریکا نے نیٹو کو شریک کرنے کی کوشش کی اس میں بھی کسی نے ساتھ نہیں دیا، جنگ میں دشمن کے 170سے 180 ڈرونز نشانہ بنائے، امریکا کا ایف 35 لڑاکا طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا جو معمولی بات نہیں۔
ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھاکہ ایران کی جنگی ٹیکنالوجی کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا مگر دشمن بات ضرور سمجھ گیا ہوگا، امریکی مائن سوئپر اپنی موجودہ پوزیشن سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھیں، امریکی مائن سوئپر آگے بڑھا تو ہم یقینی طور پر فائرنگ کریں گے۔ ایرانی سپیکر نے کہا کہ میں یہ بات امریکی وفد کو واضح طور پر بتا بھی چکا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا اور مذاکرات کو ’جدوجہد کا ایک طریقہ‘ قرار دیا، ایران بیک وقت سفارت کاری، فوجی طاقت اور عوامی حمایت تینوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔
ایرانی پارلیمانی سپیکر نے کہا کہ ایران مستقل امن چاہتا ہے تاکہ ’جنگ اور جنگ بندی کے چکر‘ کو ختم کیا جا سکے، لیکن اس کے لیے ضمانت ضروری ہے۔





