PM Imran Khan

طاقتور کو قانون کے کٹہرے میںلانے حالات بہتر ہوئے، عمران خان

طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں لانے حالات بہتر ہوئے، عمران خان

 کسی کو تحفظات ہیں تو بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں سب کی بات سننے کیلئے تیار ہوں

 یہ نہیں ہوسکتا کسی کے خلاف کارروائی ہو اور کسی کو مستثنیٰ قرار دے دیا جائے غریب کیلئے قانون اور اور امیر کیلئے اور ہو

سواسال میں اچانک چینی کی قیمت 26 روپے سے اوپر چلی گئی،اربوں روپے کرپشن کرنے والوںکے خلاف شواہد موجود ہیں

60،70 ستر شوگر ملوں کی جیبوں میں 140 ارب روپے چلے گئے، میں کیا کرتا انہوں نے کارٹل بنا کر عوام کو لوٹا ہے

رمضان پیکیج کی خود مانیٹرنگ کرر ہا ہوں، اپنی معاشی ٹیم سے وہ روزانہ اپ ڈیٹ بھی لے ر ہا ہوں

 وفاقی کابینہ میں دو تین تبدیلیاں کچھ روز میں ہو جائیں گی، سال کے آخر تک تمام تحصیلوں میں ہائوسنگ منصوبے شروع ہوجائیں گے

وزیراعظم کاہائوسنگ اسکیم منصوبے کی تقریب سے خطاب ، میڈیا سے گفتگو

سرگودھا(ویب  نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ میں دو تین تبدیلیاں کچھ روز میں ہو جائیں گی، سواسال میں اچانک چینی کی قیمت 26 روپے سے اوپر چلی گئی ، عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، عوام کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سرگودھا میں میڈیا سے گفتگو کے دوران جہانگیر ترین سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ60،70 ستر شوگر ملوں کی جیبوں میں 140 ارب روپے چلے گئے، میں کیا کرتا انہوں نے کارٹل بنا کر عوام کو لوٹا ہے ، عوام کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ، عمران خان نے کہاکہ جن لوگوں نے اربوں روپے کرپشن کی ان کے خلاف شواہد موجود ہیں اگر کسی کو تحفظات ہیں تو بیٹھ کر بات کرسکتے ہیںسب کی بات سننے کیلئے تیار ہوں یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کے خلاف کارروائی ہو اور کسی کو مستثنیٰ قرار دے دیا جائے غریب کیلئے قانون اور اور امیر کیلئے اور ہو ، کسی کے ساتھ امتیاز نہیں ہوگا ۔ معاشرہ سزا نہیں دے گا تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مدینہ کی ریاست بننے سے قبل حالات خراب تھے لیکن جب طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا تو حالات بہتر ہوئے۔ وزیراعظم نے کہاکہ رمضان پیکیج کی وہ خود مانیٹرنگ کررہے ہیں، اپنی معاشی ٹیم سے وہ روزانہ اپ ڈیٹ بھی لے رہے ہیں اور اشیاء خوردونوش کی قیمتیں خود چیک کررہے ہیں اور صوبوں میں جو اقدامات کیے گئے ہیں خصوصی طورپر سستے بازاروں کا انتظام کیا گیا ہے ان کو بھی خود مانیٹر کررہا ہوں، عوام کو سستی چیزوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اس سے پہلے پاکستان میں کمزور طبقے کو اوپر لانے کے بارے میں کبھی سوچا نہ گیا اب ہماری حکومت کمزور طبقے کو اوپر لانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں مہنگائی بڑے مسئلے کی چھوٹی وجہ ہے۔قبل ازیں سرگودھا کے دورے کے موقع پر ہائوسنگ اسکیم منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ سال کے آخر تک تمام تحصیلوں میں ہائوسنگ منصوبے شروع ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی کاوشوں سے منصوبے پر کام شروع ہوا اور جن لوگوں کے پاس گھر نہیں یہ ان کے لیے اچھا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ امیر آدمی کو بینک سے قرض مل جاتا ہے لیکن ایک عام آدمی کبھی اپنے گھر کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ غریب گھرخرید نہیں سکتے تو پھر کچی آبادیاں جنم لیتی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں ایسے منصوبے بہت پہلے آنے چاہیے تھے۔ 31تحصیلوں کے بعد منصوبے میں توسیع کریں گے اور سال کے آخر تک تمام تحصیلوں میں ہاسنگ منصوبے شروع ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کچی آبادی میں نہ مالکانہ حقوق ہیں اور نہ ہی سہولتیں ہیں۔ 10ہزار روپے مہینے کی قسط پر 10 سال میں یہ آپ کا گھر ہو جائے گا اور اگر قسط 5 ہزار کر دیں تو 20 سال میں گھر آپ کا ہوجائے گا۔عمران خان نے کہا کہ کراچی کے 40فیصد لوگ کچی آبادی میں رہتے  ہیں۔ لوگوں کی ڈیمانڈ زیادہ ہے لیکن ہمارے پاس اتنے گھر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے ان علاقوں میں رہنے کے لیے رجسٹریشن کرائی ہوئی ہے۔ جب تک قانون نہیں تھا بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھے اور قانون پاس کرنے پر میں عدلیہ کا شکر گزار ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں دو سال عدالت سے قانون پاس کرانے میں لگے۔ بینکوں کو چھوٹے لوگوں کو قرضے دینے کی عادت نہیں تھی، وزیراعظم ہاسنگ سیکٹر سے 30 دیگر صنعتیں بھی چلنا شروع ہوجاتی ہیں۔