افغانستان کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔سراج الدین حقان

ہمارا ملک کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہیں،افغان وزیر داخلہ

کابل( ویب  نیوز)

افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے کابل میں ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں اور وہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہے۔افغانستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔افغان حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں،میڈیا رپورٹ کے مطابق کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ افغان حکومت کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام، اداروں کی مضبوطی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد افغان عوام امن چاہتے ہیں اور حکومت اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں بہتری آ رہی ہے اور سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پابندی جاری رکھے ہوئے ہے  افغانستان کسی کے لیے خطرہ نہیں بلکہ خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، تاہم ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سراج الدین حقانی نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعمیری اور حقیقت پسندانہ رویہ اپنایا جائے اور پابندیوں کے بجائے تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ افغان عوام کو درپیش معاشی اور انسانی مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ خطاب کے اختتام پر وزیرِ داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک میں قانون کی بالادستی قائم رکھنے، جرائم کے خاتمے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی