پاکستان بار کونسل نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025ء کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا
متنازعہ ایکٹ فوری واپس لیا جائے، مطالبات نہ مانے گئے تو وکلا تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے، پاکستان بار کونسل
لاہور (ویب نیوز)
پاکستان بار کونسل کے 247ویں اجلاس میں پنجاب حکومت کی شدید مذمت کرتے ہوئے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025ء کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا۔جاری اعلامیہ میں پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت غیر قانونی خواہشات سے باز رہے، متنازعہ ایکٹ فوری واپس لیا جائے۔ پاکستان بار کونسل نے کہا کہ پنجاب حکومت لاہور ہائی کورٹ سے معافی مانگے،متنازع قانون کو غیر آئینی، غیر قانونی اور عدالتی نظام سے متصادم قرار دیا گیا۔پاکستان بار کونسل نے کہا کہ ایکٹ قانونِ شہادت، سی پی سی، سی آر پی سی اور دیگر متعلقہ قوانین سے متصادم ہے، پاکستان بار کونسل لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے قانون معطل کرنے کا فیصلہ درست قرار، نیا قانون عدالتی نظام کے متوازی نظام قائم کرنے کی کوشش ہے۔پاکستان بار کونسل نے کہا کہ پراپرٹی تنازعات عدلیہ کے بجائے انتظامی افسران کو سونپنا غیر قانونی ہے، نیا قانون سول حقوق اور عدالتی بالادستی کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان بار کونسل نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف مہم کی مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان بار کونسل نے کہا کہ پنجاب حکومت کا رویہ عدلیہ کی توہین کے مترادف ہے، قانون لینڈ مافیا اور قبضہ گروپوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا گیا، عدلیہ کو غیر قانونی اقدامات روکنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ پاکستان بار کونسل نے اعلامیہ میں کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عدلیہ کے اختیارات کے تحفظ کے لیے درست قدم اٹھایا۔ وکلا برادری لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان بار کونسل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا، مطالبات نہ مانے گئے تو وکلا تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔





