صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی: سہیل آفریدی
امن جرگے میں متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی، 15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔

وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا بھی یہی واضح موقف ہے کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلے صوبے پر مسلط کیے گئے تو تمام سٹیک ہولڈرز میں تشویش پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایک فرد یا ایک ادارہ زور زبردستی صوبے پر فیصلے مسلط نہیں کر سکتا، زبردستی فیصلوں کے نتائج وہ نہیں ہوں گے جو فیصلہ کرنے والے چاہتے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ امن خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کی مشترکہ ضرورت ہے، پائیدار اور مستقل امن کے لیے جامع اور ہمہ گیر پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے تمام اداروں، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور قبائلی مشران پر مشتمل جامع پالیسی ناگزیر ہے، تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں سے نہ امن بحال ہوگا اور نہ ہی عوام کا اعتماد قائم ہوگا، صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔





