الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو ایک قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو سفارش کی ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 219 میں ترمیم کی جائے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صرف الیکشن کمیشن کی نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشترکہ آئینی ذمہ داری ہے، بروقت انتخابات نہ ہونے سے نچلی سطح پر جمہوریت کمزور ہوتی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عوام کو پہنچتا ہے۔
سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے یا ان کی تحلیل کی صورت میں اسی وقت نافذ لوکل گورنمنٹ قوانین کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے. الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو ایک قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو سفارش کی ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 219 میں ترمیم کی جائے۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے یا ان کی تحلیل کی صورت میں اسی وقت نافذ لوکل گورنمنٹ قوانین کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ سفارشات اس لئے بھیجی گئی ہیں کیونکہ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی، جس کے باعث مقامی سطح پر جمہوری عمل متاثر ہوتا ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صرف الیکشن کمیشن کی نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشترکہ آئینی ذمہ داری ہے، بروقت انتخابات نہ ہونے سے نچلی سطح پر جمہوریت کمزور ہوتی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عوام کو پہنچتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے، اس لئے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کے تسلسل اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے واضح اور مؤثر قانونی فریم ورک بنایا جائے۔





