مختلف ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم اڈیالہ جیل  ضروری طبی سامان کے ہمراہ  پہنچی تھی، طبی ماہرین میں ڈاکٹر رفاق، ڈاکٹر سکندر، ڈاکٹرعارف بھی شامل تھے۔

لیڈ (  اڈیالہ جیل )  عمران خان کا آنکھوں کا معائنہ ( دھرنے ،مصروف ترین شاہرات بند)

قائد حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی ادویات تک رسائی روکنے کو تحریک نے سنگین اوdر قابلِ مذمت عمل قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی سیاسی اختلاف کو انسانی ہمدردی اور طبی ضرورتوں پر فوقیت دینا ظلم کی بدترین شکل ہے۔ طبی ٹیم کی رپورٹ جلد رپورٹ حکومت کے والے کرے گی۔

اِسی طرح ٹیکنیشن بھی 5رکنی ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ تھے، ڈاکٹروں نے تقریبا ایک گھنٹہ تک اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، ڈاکٹروں کی ٹیم مختلف طبی آلات اور ادویات بھی ساتھ لے کر آئی۔ طبی ٹیم کی رپورٹ جلد رپورٹ حکومت کے والے کرے گی۔

عمران خان کا اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا معائنہ مکمل، ٹیم واپس روانہ ہوگی
whatsapp sharing button
راولپنڈی ( ویب نیوز  ) سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا معائنہ مکمل کر لیا گیا، طبی ٹیم واپس روانہ ہوگی۔ ذرائع  کے مطابق مختلف ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم اڈیالہ جیل  ضروری طبی سامان کے ہمراہ  پہنچی تھی، طبی ماہرین میں ڈاکٹر رفاق، ڈاکٹر سکندر، ڈاکٹرعارف بھی شامل تھے۔

اِسی طرح ٹیکنیشن بھی 5رکنی ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ تھے، ڈاکٹروں نے تقریبا ایک گھنٹہ تک اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، ڈاکٹروں کی ٹیم مختلف طبی آلات اور ادویات بھی ساتھ لے کر آئی۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا مزید کہنا تھا کہ سخت سکیورٹی انتظامات میں میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں آنکھوں کا تفصیلی چیک اپ   کیا جب کہ طبی ٹیم کی رپورٹ جلد رپورٹ حکومت کے والے کرے گی۔

اپوزیشن اتحاد کا عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیلئے احتجاج تیسرے روز بھی جاری

تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی الشفا آئی ہسپتال منتقلی تک دھرنا جاری رہے گا، ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی علاج شروع نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق حکومت نے عمران خان کے طبی معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے جس کی سفارش کی روشنی میں ہسپتال منتقل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے دھرنے کے مظاہرین کو کھانے، پانی اور ادویات تک رسائی روکنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

ترجمان تحریک تحفظ آئین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں مظاہرین کی بنیادی سہولیات تک رسائی پر پابندی غیر انسانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک کی قیادت اپنے مطالبات پر پوری ثابت قدمی کے ساتھ قائم ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، محاصروں اور جبر کے ہتھکنڈے کبھی بھی تحریکیں دبانے میں کامیاب نہیں ہوئے، ایسے اقدامات صرف ظلم کے ریکارڈ میں اضافہ کرتے ہیں اور حق کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتے۔

قائد حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی ادویات تک رسائی روکنے کو تحریک نے سنگین اور قابلِ مذمت عمل قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی سیاسی اختلاف کو انسانی ہمدردی اور طبی ضرورتوں پر فوقیت دینا ظلم کی بدترین شکل ہے۔

ترجمان نے اعلان کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان ظلم، جبر اور محاصرے کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگی اور یہ جدوجہد آئین، قانون اور عوامی حقِ نمائندگی کے تحفظ کیلئے جاری رہے گی، جسے کسی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔