اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں کے بعد بدلتی عالمی سکیورٹی صورتحال اور افغان طالبان رجیم کی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا
اعلیٰ سطحی اجلاس میں امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں ہونے والے حملوں کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ شرکا نے جامع و متفقہ قومی خارجہ و داخلہ پالیسی کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے مغربی سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جاری جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا جائزہ لیا۔ شرکا نے پاک افواج کی جانب سے فتنہ الخوارج کی سرکوبی کیلیے مؤثر اور جامع کارروائیوں کی تعریف کی اور سالمیت، خود مختاری اور وقار کیلیے ہر قیمت پر حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسلام آباد (ویب نیوز )
پاکستان نے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں کے بعد بدلتی عالمی سکیورٹی صورتحال اور افغان طالبان رجیم کی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی سکیورٹی پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں بدلتی عالمی سکیورٹی صورتحال اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان نے مغربی سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جاری جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا جائزہ لیا۔ شرکا نے پاک افواج کی جانب سے فتنہ الخوارج کی سرکوبی کیلیے مؤثر اور جامع کارروائیوں کی تعریف کی اور سالمیت، خود مختاری اور وقار کیلیے ہر قیمت پر حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس میں امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں ہونے والے حملوں کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔
شرکا نے عالمی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں جامع و متفقہ قومی خارجہ و داخلہ پالیسی کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کیا۔





