ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ وزارت پٹرولیم کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ذخائر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی،
  پیٹرولیم مصنوعات …  ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم  
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے،  جو پٹرول پمپ مصنوعی قلت کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو، اس کو فوری بند کیا جائے اور اس کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کی جائے.
وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنانے کی بھی ہدایت دی جس کے ذریعے صوبوں کیساتھ رئیل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔ وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ صوبوں کا دورہ کریں

اسلام آباد (  خصوصی رپورٹر )  وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صوبائی حکومتوں کو پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔  وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا، وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں نائب وزیراعظم وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء جام کمال خان، اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔

وزارت پٹرولیم نے اجلاس کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔

وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے،  جو پٹرول پمپ مصنوعی قلت کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو، اس کو فوری بند کیا جائے اور اس کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔

وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور ان کی عوام کو بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل و منصوبہ بندی تیار کریں۔

وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنانے کی بھی ہدایت دی جس کے ذریعے صوبوں کیساتھ رئیل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کیلئے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں، قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت توانائی نے تجاویز پر ورکنگ تیار کر کے وزیراعظم کو بریفنگ دی جس کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 15 دنوں کی بجائے ہفتہ وار ریوائز کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، اس طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں انٹرنیشنل مارکیٹ کی مسابقت سے ایڈجسٹ کی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم معاشی ٹیم کی مشاورت سے قیمتوں کو ریوائز کرنے کا فیصلہ کریں گے، صورتحال سنگین رہنے کی صورت میں وفاقی حکومت کی جانب سے جلد فیصلہ متوقع ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف بھی مانیٹرنگ سخت کر دی گئی ہے۔

تعلیمی اداروں اور دفاتر میں کورونا دور کی طرز پر آن لائن سسٹم کی واپسی!

اسلام آباد: تعلیمی اداروں اور دفاتر میں کورونا کے دور کی طرز پر آن لائن سسٹم کی واپسی کے حوالے سے عوام کے لیے بڑی خبر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے ملک میں توانائی کی بچت اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان کی تیاریاں تیز کر دی۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت کورونا دور کی طرز پر ملک بھر میں آن لائن اور اسمارٹ آفیشل ورکنگ سسٹم دوبارہ نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مارچ 2026 کے دوران تعلیمی اداروں میں باقاعدہ کلاسز کے بجائے آن لائن سیشنز شروع کرنے پر مشاورت شروع کر دی ہے، تاکہ اسکولوں اور کالجوں کی ٹرانسپورٹ اور بجلی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔

نئے پلان کے تحت سرکاری اور نجی دفاتر میں بھی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں ، مارچ میں تمام دفاتر میں صرف انتہائی ضروری اسٹاف کو بلانے کی تجویز ہے۔

کارپوریٹ سیکٹر، ٹیلی کام اور آئی ٹی کمپنیوں کے ملازمین کو ہفتے میں دو دن آن لائن خدمات انجام دینے کی ہدایت کی جا سکتی ہے۔

دفاتر میں ملازمین کے لیے شیئرنگ رائڈز (Car Pooling) کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔

ان اقدامات کا بنیادی مقصد ایندھن اور توانائی کی کھپت کو کم سے کم کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمارٹ ورکنگ اور ریموٹ آفس ورک کے ذریعے نہ صرف بجلی کی بچت ہوگی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں بھی کمی آئے گی۔