رپورٹ کے مطابق کچھ ٹیکس اہداف اور اصلاحات مکمل نہیں ہوسکیں، پاکستانی معیشت کے حالات کی سمت واضح نہیں، خدشہ ظاہر کیا ایران جنگ مہنگائی پر دباؤ ڈالے گی، جنگ معاشی نمو اور ادائیگیوں کو متاثر کرے گی. آئی ایم ایف رپورٹ
آئندہ مالی سال پاکستان کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 26 ہزار 423 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ وفاق کے اخراجات کا تخمینہ 16 ہزار 921 ارب روپے تک ہو سکتا ہے۔ گیس ٹیرف میں جولائی 2026 اور فروری 2027 میں تبدیلی ہوگی، بجلی کے نرخ جنوری 2027 میں ایڈجسٹ کئے جائیں گے،
اسلام آباد: (ما نیٹرنگ ڈیسک +خصوصی رپورٹر )
آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی کا ہدف 1 ہزار 468 ارب روپے تھا، تاہم وصولیاں 1 ہزار 546 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ گیس سرچارج کی مد میں آئندہ مالی سال 151 ارب روپے آمدن متوقع ہے، جبکہ رواں مالی سال اس کا ہدف 90 ارب روپے تھا لیکن وصولیاں 134 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
نان ٹیکس آمدن کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آئندہ مالی سال میں 2 ہزار 768 ارب روپے جمع کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ رواں مالی سال میں نان ٹیکس آمدن 3 ہزار 681 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 3 ہزار 702 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال پاکستان کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 26 ہزار 423 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ وفاقی اخراجات 16 ہزار 921 ارب روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت سب سے زیادہ رقم یعنی 7 ہزار 824 ارب روپے سود اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ اس میں سے:
6 ہزار 652 ارب روپے مقامی قرضوں کی ادائیگی پر 1 ہزار 107 ارب روپے بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیے جانے کا تخمینہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال پاکستان کا دفاعی بجٹ 2 ہزار 665 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ رواں مالی سال میں دفاعی اخراجات 2 ہزار 575 ارب روپے کے مختص ہدف کے مقابلے میں 2 ہزار 564 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد کردیں، مالی سال 2027ء کے بجٹ میں گیس اور بجلی کے نرخ شامل ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق جائزہ رپورٹ جاری کردی، رپورٹ کے مطابق گیس ٹیرف میں جولائی 2026 اور فروری 2027 میں تبدیلی ہوگی، بجلی کے نرخ جنوری 2027 میں ایڈجسٹ کئے جائیں گے، نیب کو مزید خودمختار اور شفاف بنانے کی شرط بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط 55 ہوگئیں، نئی شرائط کا مقصد بجٹ نظم و ضبط، ٹیکس نظام اور معیشت کی بہتری ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بیشتر مالی اہداف پورے کر لئے، کچھ ٹیکس اہداف اور اصلاحات مکمل نہیں ہوسکیں، رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کے حالات کی سمت واضح نہیں، خدشہ ظاہر کیا ایران جنگ مہنگائی پر دباؤ ڈالے گی، جنگ معاشی نمو اور ادائیگیوں کو متاثر کرے گی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی بحالی میں پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کی نمو میں تیزی آئی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ متوازن اور مہنگائی قابو میں رہی، زرمبادلہ کے ذخائر سابق اندازوں سے بہتر رہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ اس ہدف کے تحت ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 7 ہزار 413 ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں 4 ہزار 727 ارب روپے، کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1 ہزار 651 ارب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1 ہزار 43 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
نان ٹیکس آمدن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال اس مد میں 2 ہزار 768 ارب روپے جمع ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ رواں مالی سال یہ آمدن 3 ہزار 681 ارب کے ہدف کے مقابلے میں 3 ہزار 702 ارب روپے رہ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال پاکستان کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 26 ہزار 423 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ وفاق کے اخراجات کا تخمینہ 16 ہزار 921 ارب روپے تک ہو سکتا ہے۔
آئندہ مالی سال وفاق سود اور قرضوں کی ادائیگی پر سب سے خطیر رقم یعنی 7 ہزار 824 ارب روپے خرچ کر سکتا ہے۔ اس میں سے مقامی قرضوں کی ادائیگی پر 6 ہزار 652 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر 1 ہزار 107 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال پاکستان کا دفاعی بجٹ 2 ہزار 665 ارب روپے ہو سکتا ہے، جبکہ رواں مالی سال دفاعی اخراجات 2 ہزار 575 ارب کے ہدف کے بجائے 2 ہزار 564 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔





