اسلام آباد: (ویب نیوز ) آئندہ ہفتے کے لئے ڈیزل اور پٹرول کی قیمت میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان تازہ کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئندہ 15 روزہ جائزے میں ہائی سپیڈ ڈیزل اور پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیزل 25 روپے اور پٹرول 15 سے 20 روپے فی لیٹر تک مہنگا ہونے کا خدشہ ہے تاہم قیمتوں میں ہونے والے اس اضافے کو قابو میں رکھنے کیلئے حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی میں کمی کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق چار تجاویز ہیں، حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری سے کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان کا جولائی کے لیے مزید ایل این جی کارگو خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد: خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر پاکستان نے جولائی کے لیے مزید مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے کارگو خریدنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے اسپاٹ مارکیٹ سے ایک مزید ایل این جی کارگو کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا ہے اور عالمی سپلائرز سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔
ٹینڈر نوٹس کے مطابق بولیاں 20 جولائی تک جمع کرائی جائیں گی اور اسی روز کھولی جائیں گی، جبکہ ایل این جی کارگو کی فراہمی 27 سے 28 جولائی کے درمیان متوقع ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی اسپاٹ مارکیٹ سے جولائی کے لیے چار ایل این جی کارگو خرید چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلا کارگو، جس کی ترسیل 30 جون سے 4 جولائی کے درمیان ہوئی، 16.73 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر خریدا گیا۔ دوسرا کارگو، جو 10 سے 11 جولائی کے لیے تھا، 17.37 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں حاصل کیا گیا، جبکہ تیسرا کارگو، جس کی ترسیل 15 سے 16 جولائی کے دوران ہوئی، 18.23 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر خریدا گیا۔
دو روز قبل خریدے گئے تازہ ترین کارگو کی قیمت 20.69 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رہی، جو اسپاٹ ایل این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی کی ترسیلی راہداریوں سے متعلق خدشات ہیں۔
نیا ٹینڈر ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب خطے میں غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے، جبکہ تاجر اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔





