سعودی عرب کے خلاف "آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی کے تحت بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔  یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر عائد کیے گئے "غیر منصفانہ اور ظالمانہ محاصرے” کے جواب میں کیا گیا ہے۔ عسکری ترجمان

ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی

باب المندب کی آبنائے مکمل طور پر بند کر دی گئی تو عالمی تیل کی رسد میں تقریباً 7 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے،  اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، شپنگ اخراجات میں تیزی اور سپلائی چین میں شدید خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

ہمیں ثالثوں کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے، ہمیں امریکا کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم اس کی مزید تفصیلات میں نہیں جائیں گے، اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں سفارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں اور بعض ثالثوں نے مختلف تجاویز اور پیغامات ہم تک پہنچائے ہیں۔

صنعاء: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی (نیول بلاکیڈ) کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق حوثیوں کے عسکری ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے خلاف "آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی کے تحت بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔

بیان کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر عائد کیے گئے "غیر منصفانہ اور ظالمانہ محاصرے” کے جواب میں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایران نے حوثیوں پر زور دیا تھا کہ اگر امریکہ ایرانی توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے تو وہ بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو بند کر دیں۔

واضح رہے کہ باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تیل اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

تاحال سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق اگر باب المندب کی آبنائے مکمل طور پر بند کر دی گئی تو عالمی تیل کی رسد میں تقریباً 7 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے، کیونکہ سعودی عرب کی زیادہ تر تیل برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، شپنگ اخراجات میں تیزی اور سپلائی چین میں شدید خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی جنگ کے باعث پہلے ہی عالمی تیل کی سپلائی تقریباً 10 فیصد متاثر ہو چکی ہے، ایسے میں باب المندب کی ممکنہ بندش توانائی کی عالمی منڈی کو مزید شدید بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔

حوثیوں کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے یہ اشارے ملے تھے کہ وہ حملوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کو روکنے اور گزشتہ ماہ طے پانے والے عارضی معاہدے کو بچانے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں، تاہم حوثیوں کے تازہ اقدام نے ان سفارتی امیدوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

تہران: (ویب ڈیسک) ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ لڑائی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سفارتی  پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ثالثوں کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے، ہمیں امریکا کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم اس کی مزید تفصیلات میں نہیں جائیں گے، اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں سفارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں اور بعض ثالثوں نے مختلف تجاویز اور پیغامات ہم تک پہنچائے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم بارہا واضح کر چکے ہیں کہ خطے کے ممالک سے ہماری کوئی دشمنی نہیں، لیکن ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں اور اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک یہ حملے اور جارحیت جاری رہے گی، ہماری مسلح افواج بھی اس کا جواب دیتی رہیں گی۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا جنوبی ایران میں واقع خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوئی کوشش کرتا ہے تو اسے اس مہم جوئی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت میں ایسے افراد موجود ہیں جو کسی بھی امریکی زمینی حملے کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

خارگ جزیرہ ایران کی تیل کی صنعت کا مرکزی مرکز ہے اور صوبہ بوشہر کے ساحل سے تقریباً 55 کلومیٹر دور واقع ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دوران متعدد بار اس علاقے پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے عبوری معاہدے کے بارے میں بھی کہا کہ اس کے متن میں کوئی ابہام نہیں ہے، مفاہمتی یادداشت کا متن مختصر ہے اور اس میں 14 شقیں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابتدا ہی سے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے، اور اس معاملے کو عمان کے ساتھ مشاورت اور خطے کے ممالک سے مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کا متن مکمل طور پر واضح ہے، اور امریکا کے پاس اس معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں۔