اجلاس میں ملک میں مہنگائی کی مجموعی صورتحال، معاشی اشاریوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

سپر ( مانیٹری پالیسی کا اعلان) شرح سود 11.50 فیصد  برقرار

گزشتہ مالی سال کے پہلے نصف میں مہنگائی میں کمی آ رہی تھی، تاہم مشرق وسطیٰ کے بحران کے اثرات نے ملکی معیشت کو متاثر کیا۔ انہوں نے بتایا، "جولائی سے فروری تک اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی، جو حکومت کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد کے اندر تھی۔”

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرصدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں شرح سود کو 11.50 فیصد پر مستحکم رکھا گیا۔  27 اپریل سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے،

کراچی: (بیورو چیف ) گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھی گئی۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرصدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں شرح سود کو 11.50 فیصد پر مستحکم رکھا گیا۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 27 اپریل سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے، آج بھی آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کرتے ہوئے پرانی سطح کو برقرار رکھا گیا۔

اجلاس میں ملک میں مہنگائی کی مجموعی صورتحال، معاشی اشاریوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ، جس کے بعد پالیسی ریٹ سے متعلق فیصلہ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے پیر کے روز پالیسی شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کا اعلان اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں گورنر نے کہا، "مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کی کئی وجوہات ہیں، تاہم پس منظر واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال جنوری اور جولائی میں ہونے والے ایم پی سی اجلاسوں کے دوران آئندہ چھ ماہ کے لیے اقتصادی ترقی، مہنگائی اور بیرونی کھاتوں سے متعلق پیش گوئیاں بھی جاری کی جاتی ہیں، جن سے وہ آگاہ کریں گے۔

گورنر نے وضاحت کی کہ گزشتہ مالی سال کے پہلے نصف میں مہنگائی میں کمی آ رہی تھی، تاہم مشرق وسطیٰ کے بحران کے اثرات نے ملکی معیشت کو متاثر کیا۔

انہوں نے بتایا، "جولائی سے فروری تک اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی، جو حکومت کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد کے اندر تھی۔”

تاہم، ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا، "جون میں مہنگائی 11.1 فیصد اور مئی میں 11.7 فیصد رہی۔ اگر خطے میں مزید کشیدگی نہ بڑھی تو ہمیں امید ہے کہ ایک سے دو ماہ میں مہنگائی میں دوبارہ کمی آنا شروع ہو جائے گی۔”

انہوں نے کہا کہ "ہمیں توقع ہے کہ آئندہ سال جون کے اختتام تک مہنگائی ہمارے ہدف کی بالائی حد یعنی تقریباً 7 فیصد یا اس سے معمولی زیادہ رہے گی، تاہم جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث اب بھی خطرات موجود ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر موجودہ سطح کے مقابلے میں مہنگائی میں بہتری آئے گی۔

گورنر کے مطابق حالیہ دنوں میں گندم کی قیمتوں میں اضافے سمیت غذائی اشیاء کی مہنگائی نے بھی مجموعی افراطِ زر میں اضافہ کیا۔

بیرونی کھاتہ

بیرونی کھاتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ "ہماری توقع ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہے گا، تاہم اس کا انحصار بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہوگا۔”

انہوں نے کہا کہ دسمبر 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کو 20.2 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

"اس سال ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر رہیں جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے ہمارا ہدف 44 ارب ڈالر ہے۔”

برآمدات کے حوالے سے انہوں نے تسلیم کیا کہ گزشتہ سال ان پر دباؤ رہا، تاہم حکومت کی جانب سے برآمدی شعبے کے لیے کیے گئے اقدامات کے باعث آئندہ مالی سال میں بہتری کی توقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں گزشتہ چار سے پانچ ماہ کے دوران سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور اوسط ماہانہ آمد 300 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا، "جون تک ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف 18 ارب ڈالر تھا، لیکن ہم نے 18.4 ارب ڈالر حاصل کیے، جو ہدف سے 40 کروڑ ڈالر زیادہ ہیں۔”

بیرونی قرضے

گورنر نے بتایا کہ ملک کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا تخمینہ 21.5 ارب ڈالر ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس میں 3.5 ارب ڈالر سود جبکہ 17 ارب ڈالر اصل قرض شامل ہے، جس کا بڑا حصہ رول اوور ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اصل ادائیگی تقریباً 7 ارب ڈالر رہ جائے گی۔

ان کے مطابق پاکستان نے قلیل مدتی تجارتی قرضوں کی جگہ طویل مدتی قرضوں کا انتظام کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "حکومت نے تین سالہ یورو بانڈز جاری کیے ہیں جبکہ کچھ تجارتی قرضوں کو کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے طویل مدتی قرضوں سے تبدیل کیا گیا، جس سے واجب الادا قرضوں میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی کمی آئی۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ:

  • 2022 میں پاکستان کا بیرونی سرکاری قرض تقریباً 100 ارب ڈالر تھا، جس میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
  • وفاقی حکومت کا بیرونی قرض بھی تقریباً 82 ارب ڈالر پر برقرار ہے۔

گورنر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی فارورڈ واجبات (Forward Liabilities) 5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 900 ملین ڈالر رہ گئی ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ سال کے اختتام تک ان واجبات کو اثاثوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اقتصادی ترقی (GDP)

اقتصادی شرح نمو کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) نے گزشتہ مالی سال کے لیے 3.7 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ دیا تھا، تاہم انہیں امید ہے کہ نظرثانی شدہ تخمینہ اس سے بہتر ہوگا اور اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی کے مطابق رہے گا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ معاشی ترقی توقع سے کم رہی، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کا بحران تھا۔

انہوں نے کہا:

"اگر جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک کے پہلے تین سہ ماہیوں کو دیکھا جائے تو اوسط شرح نمو 4 فیصد رہی۔ ہماری توقع تھی کہ چوتھی سہ ماہی میں یہ 4.1 سے 4.2 فیصد تک پہنچ جائے گی، لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد معاشی سرگرمیاں سست ہو گئیں، جس کے بعد پی بی ایس نے 3.9 فیصد کا تخمینہ جاری کیا۔”

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو بہتر ہوگی اور 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کا تفصیلی اعلامیہ

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ گزشتہ اجلاس کے مقابلے میں معاشی منظرنامے میں بہتری آئی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق:

  • خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔
  • سپلائی چین میں رکاوٹیں کم ہوئیں۔
  • حالیہ معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی۔
  • جون میں عمومی (Headline) اور بنیادی (Core) مہنگائی میں کمی آئی، تاہم دونوں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔
  • معاشی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
  • بیرونی کھاتوں پر دباؤ محدود رہا۔

کمیٹی نے کہا کہ موجودہ مانیٹری پالیسی کا مؤقف درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک واپس لانے کے لیے مناسب ہے۔

کمیٹی کے مطابق اہم مثبت پیش رفت

  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر کے ہدف سے تجاوز کر گئے۔
  • ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر ‘B’ کر دی۔
  • مہنگائی کی توقعات میں کمی آئی۔
  • فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے مالی سال 2025-26 کا ٹیکس ہدف حاصل کر لیا۔
  • بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے عالمی مہنگائی کی پیش گوئی میں اضافہ کیا۔

کمیٹی نے کہا کہ محتاط مانیٹری پالیسی اور مالیاتی نظم و ضبط کے باعث جاری سپلائی شاک کے باوجود ملکی معیشت میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔

اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قیمتوں میں استحکام اسٹیٹ بینک کی اولین ترجیح رہے گی اور آنے والے معاشی اعدادوشمار اور عالمی حالات پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ:

  • بیرونی اور مالیاتی بفرز کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
  • ساختی اصلاحات (Structural Reforms) کو تیز کیا جائے۔
  • معیشت کو مستقبل کے جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا جائے۔
  • پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جائے۔

تجزیہ کاروں کی توقعات

معاشی ماہرین پہلے ہی توقع کر رہے تھے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو برقرار رکھے گا کیونکہ سست معاشی نمو کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا ضروری تھا۔

بروکریج ہاؤسز کے سرویز کے مطابق 90 فیصد سے زائد ماہرین کا خیال تھا کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، جبکہ صرف چند ماہرین معمولی اضافے کے حق میں تھے۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2025 میں پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس کم کر کے 10.5 فیصد کیا تھا، تاہم اپریل 2026 میں اسے 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے، کاروباری برادری کی جانب سے شرح سود میں نمایاں کمی کے مسلسل مطالبات کے باوجود، مرکزی بینک نے شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے۔