سپریم کورٹ نے چیف کمشنراسلام آباد کی نظرثانی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے نظرثانی درخواست پر کل اعتراض عائد کیے گئے تھے۔ نظرثانی درخواست کیساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا،

 ( سپریم کورٹ حکم ) عمران خان کی اسپتال منتقلی  کا امکان

 بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے حوالے سے اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جس پر تحریک انصاف نے توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی تیاری کرلی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگل ٹیم نے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہونے کے باعث دوسرا قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ توہین عدالت کی درخواست بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

تی وی چینل کے  مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہم ملاقات ہوئی  ہے جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان کی اسپتال منتقلی پر مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے حوالے سے اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جس پر تحریک انصاف نے توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگل ٹیم نے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہونے کے باعث دوسرا قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ توہین عدالت کی درخواست بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چودھری نے وکالت ناموں پر دستخط کے لیے جیل حکام سے رجوع کیا تھا، تاہم اڈیالہ جیل حکام نے وکالت ناموں کی دستاویزات وصول نہیں کی تھیں۔

عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے پر دائر نظرثانی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی گئی.  ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے چیف کمشنراسلام آباد کی نظرثانی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے نظرثانی درخواست پر کل اعتراض عائد کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق نظرثانی درخواست کیساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا، رجسٹرار اعتراضات دور ہونے کے بعد نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔

عدالتی فیصلے پر نظرثانی درخواست چیف کمشنر اسلام آباد نے دائر کی ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل رولز میں قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار واضح ہے تاہم عدالتی فیصلے میں جیل رولز کو نظر انداز کیا گیا۔ عدالت نے قانون سے ہٹ کر حکم دیا، جو کہ نمایاں قانونی خامی ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق آرٹیکل 10 اے منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے، مقدمے میں فریقین کو نوٹس جاری کیےبغیر آرڈر جاری کیا گیا، پٹیشن کے قابل سماعت ہونے کا سنجیدہ قانونی نکتہ بھی موجود تھا، قابل سماعت کا نکتہ مؤخر کرتے ہوئے یکطرفہ عبوری حکم جاری کیا گیا،​کیس کے عبوری مرحلے میں حتمی نوعیت کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کیلیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم سابق وزیر اعظم اب تک اڈیالہ جیل میں موجود ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو طبی بنیادوں پر نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ان کی صحت اور طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے قانونی ٹیم اور فیملی کی جانب سے مسلسل خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

عدالت نے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے تحت بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ حکم نامے کے مطابق ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ان کے ہمراہ رہنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ اہلخانہ کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کو آئندہ ماہ کی 16 تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے انہیں اس دوران اسپتال ہی میں زیر علاج رکھنے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے نجی اسپتال میں منتقلی کے اخراجات اور میڈیکل رپورٹس کی رازداری سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔ وکیل صفائی نے یقین دہانی کروائی کہ تمام اخراجات فیملی خود برداشت کرے گی جبکہ سلمان اکرم راجا نے عدالت کو یہ گارنٹی دی کہ طبی رپورٹس کو ہرگز سیاسی مقاصد کیلیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔