ملک تیزی سے نیچے جا رہا ہے، اثرات ملٹری سمیت تمام اداروں پر پڑیں گے، عمران خان
نیشنل سیکیورٹی کے ادارے، جس میں فوج بہت بڑا کمپوننٹ ہے، سب کو سوچنا چاہے آج ہم کدھر کھڑے ہیں، ہماری عدلیہ کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے
سب کو پتا ہے کہ اس کا صرف ایک حل صاف اور شفاف انتخابات ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کا معاشی ٹیم کے اجلاس سے خطاب
لاہور( ویب نیوز) کا
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں کبھی بھی اتنے برے معاشی حالات نہیں تھے، جو آج ہیں، اس لیے بات کرنا چاہتا ہوں کہ ساری قوم کو پتا ہونا چاہیے کہ ہم کدھر جا رہے ہیں۔ملک تیزی سے نیچے جا رہا ہے، اثرات ملٹری سمیت تمام اداروں پر پڑیں گے۔ لاہور میں تحریک انصاف معاشی ٹیم کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے جو معاشی صورتحال کے حوالے سے پاکستانیوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں، شاید ہی اس ملک کی تاریخ میں کبھی بھی اتنے برے معاشی حالات نہیں تھے، جو آج ہیں، اس لیے بات کرنا چاہتا ہوں کہ ساری قوم کو پتا ہونا چاہیے کہ ہم کدھر جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اخبار اور میڈیا ہائوسز کو آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ ہم خطرے کے کس کنارے پر کھڑے ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اس عوام کو آگاہ نہیں کررہے۔عمران خان نے کہا کہ ساری قوم کو بتائوں کہ حالات کدھر کھڑے ہیں، خدانخواستہ اور یہ کدھر جاسکتے ہیں یعنی اس سے بہت زیادہ برے ہوسکتے ہیں، ساری معاشی ٹیم کو بٹھایا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ یہ بتائیں کہ ہم یہاں پہنچے کیسے ہیں، اور اس سے نکلنے کا حل کیا ہے، اگر ہم نے ملک کو سنھبالنا ہے تو ہمیں کیا اقدامات کرنا ہوں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں آج صرف اپنی قوم سے مخاطب نہیں، میں اپنے اداروں سے بھی مخاطب ہوں، یہ ملک جس تیزی سے نیچے جا رہا ہے، اس کے سارے اداروں پر اثرات ہوں گے، ہمارے قومی سلامتی کے ادارے ہیں، نیشنل سیکیورٹی کی پالیسی ہم نے ہی بنائی تھی، جس کا ایک پہلو پاکستان کی ملٹری ہے جبکہ اس کا دوسرا پہلو پاکستان کی معیشت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پالیسی بنائی تھی تو مثال دی تھی کہ سوویت یونین کی فوج دنیا کی طاقت ور فوج تھی لیکن جب وہ معاشی طور پر نیچے گیا تو آخر میں فوج سوویت یونین کو ٹوٹنے سے نہیں بچا سکی۔عمران خان نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کے ادارے، جس میں فوج بہت بڑا کمپوننٹ ہے، ان سب کو سوچنا چاہے کہ آج ہم کدھر کھڑے ہیں، ہماری عدلیہ کو بھی رول ادا کرنا چاہیے، اللہ نے ججز کو جس مقام پر بٹھایا ہوا ہے، اگر خدانخواستہ ملک اسی تیزی سے نیچے چلا گیا تو وہ بھی جوابدہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے حیرت ہے کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کیوں آواز بلند کررہی، کیا بزنس کمیونٹی کو نظر نہیں آرہا کہ ملک کس طرف جا رہا ہے۔ عمران خان نے اپنے دور کی کارکردگی کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ ہمارے دور میں ترسیلات زر اور برآمدات ریکارڈ ہوئی تھیں، ہمارا کسان سب سے زیادہ خوشحال تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ڈالر گیپ بڑھتا جارہا ہے، تحریک انصاف نے قرضے، قرضوں کی قسطیں واپس کرنے کے لیے لیے تھے، ان دو جماعتوں نے ملک کو مقروض کیا تھا۔ عمران خان نے دعوی کیا کہ باہر کے سرمایہ کار یا کمرشل بینکوں نے پاکستان کو پیسہ دینا ہے کیونکہ پاکستان کی کریڈٹ رسک ریٹنگ تقریبا 100 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو ہمارے دور میں 5 فیصد تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پیسہ آنا نہیں ہے، معاشی سرگرمیاں نہیں ہونی، قرضے بھی چڑھتے جارہے ہیں، اس سے زیادہ خوفناک سناریو میں نے کبھی پاکستان کے اندر نہیں دیکھا جو آج سامنے آرہا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ سب کو پتا ہے کہ اس کا صرف ایک حل صاف اور شفاف انتخابات ہے، اس کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر ملک میں سیاسی طور پر استحکام نہیں ہے تو سب سے پہلے معیشت متاثر ہوتی ہے، اس لیے کہ اگر میں نے صنعت لگانی ہے تو میں دیکھوں گا کہ اگلے دو، تین یا پانچ برس پاکستان کی صورتحال کیا ہوگی، اگر یہی نہیں پتا کہ اگلے چند ماہ کیا حالات ہوں گے، کونسی حکومت آئے گی، تو میں تو پاکستان میں پیسہ نہیں لگائوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آج انتخابات کے لیے آواز بلند نہیں کریں گے تو پھر آپ پاکستان کو اس سناریو میں دھکیل رہے ہوں گے جدھر آگے مزید معیشت نیچے جانے لگی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے آخری مہینے میں 27 فیصد صنعتی ترقی ہوئی تھی جو آج صفر ہے۔ کسانوں کے پاس پیسہ آیا تھا، بے شمار موٹرسائیکلیں فروخت ہوئیں، ریکارڈ برآمدات ہوئی تھیں، کسانوں نے ریکارڈ منافع کمایا، پاکستان کی ریکارڈ برآمدات ہوئی تھیں۔





