پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی، حافظ نعیم الرحمن
عوامی ریفرنڈم کے لیے صوبہ بھر میں ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا
پنجاب کے بلدیاتی قانون پر چارروزہ ریفرنڈم کے پہلے روز امیر جماعت اسلامی پاکستان کی صحافیوں سے گفتگو
لاہور  (  ویب  نیوز )
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی۔ پنجاب کے بلدیاتی قانون پر عوامی ریفرنڈم کے پہلے روز مردو خواتین نے بھرپور انداز میں رائے کا اظہار کیا ، نتائج کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، کالے قانون کی واپسی تک گھیراؤ جاری رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب کے بلدیاتی قانون پر چار روزہ عوامی ریفرنڈم کے پہلے روز ٹاؤن شپ لاہور میں پولنگ کیمپ کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل ترابی ، سیکرٹری جنرل لاہور اظہر بلال ، نائب امیر لاہور خالد بٹ، امیر ضلع مرزا محمد رشید ، سلمان ایوب اور دیگر راہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
جماعت اسلامی کے زیراہتمام ریفرنڈم کے لیے مرکز اور صوبہ کے تمام اضلاع میں آزاد ریفرنڈم کمیشن تشکیل دے کر احمد بلال محبوب کو چیف الیکشن کمیشن مقرر کیا گیا۔ آزادانہ رائے دہی کے لیے چوکوں ، چوراہوں ، گلیوں ، مارکیٹوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر کیمپ قائم کیے گیے ہیں۔ لاہور میں چودہ سو کیمپ جبکہ باقی اضلاع میں بھی ہزاروں کیمپ قائم ہیں۔ ریفرنڈم کے پہلے روز بھرپور گہما گہمی رہی اور مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کا کالا قانون جو جمہوریت اور عوام کی توہین ہے کو واپس لیا جائے اور بلدیاتی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ کے عوام گزشتہ دس برس سے نچلی سطح پر حق حکمرانی سے محروم ہے، بلدیاتی قانون میں باربار تبدیلی کی گئی ، اسلام آباد میں بلدیاتی قانون پانچ مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اختیارات پر قابض ہیں، پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی بلدیاتی نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکمران خاندان نہیں چاہتے کہ عوام بااختیار ہو، راجاؤں اور رانیوں کی طرح طاقت اپنے ہاتھ میں رکھنا اور خوشامدیوں میں گھرے رہنا ان کا وطیرہ ہے، حکمران خاندان اپنی پارٹیوں میں سیاسی کارکن کو بھی اختیار نہیں دیتے، یہ عوام سے خوف زدہ ہیں ، جماعت اسلامی خاندانوں کی اجارہ داری کو چیلنج کررہی ہے، ہم عوام کے حقوق کے لیے میدان عمل میں ہیں اور عالمی سطح پر بھی امت اور دکھی انسانیت کے حق میں بھرپور آواز بلند کررہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی قانون میں غیر جماعتی انتخابات کی بات کی گئی ہے ، جو آئین و جمہوریت سے انحراف ہے ، اس قانون میں یونین کونسل کا چیئرمین بھی براہ راست ووٹ سے منتخب نہیں ہوگا ، اسے ایک ماہ کے اندر کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہونا ہوگا، ایسا محض اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ حکمران طبقہ سینٹ اور قومی اسمبلی کی طرز پر منتخب نمائندوں کی خریدوفروخت کے عمل کو نچلی سطح تک بھی لے جائے۔ معاشرہ میں بلدیاتی حکومتیں اور طلبا یونین جمہوریت کی نرسری تصور کی جاتی ہیں ، پاکستان میں دونوں پر پابندی ہے، اس کالے قانون کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جدوجہد بھرپور طریقے سے جاری رہے گی۔