عمران خان کی صحت سے متعلق پیشرفت کی جاتی ہے تو یہ دھرنا منتشر ہو جائے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو مزید مطالبے بھی شامل ہوں گے، اس حکومت کی اتنی غلطیاں ہیں کہ پھر دھرنے ہی دھرنے ہوں گے۔ محمود اچکزئی

لیڈ   (بانی پی ٹی آئی کی صحت) سینیٹ میں قرارداد مسترد، (اپوزیشن کا شدید احتجاج)

سینیٹر عون عباس بپی نے ایوان میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد پیش کی جس کی حکومت کی جانب سے مخالفت کی گئی، قرارداد مسترد ہونے پر پی ٹی آئی سینیٹرز چئیرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج و نعرے بازی کی۔

بینائی ایک دم سے ختم نہیں ہوسکتی، رانا ثناء اللہ کو جو لکھ کر دیا گیا انہوں نے وہ پڑھ کر سنا دیا، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے لاپرواہی ہوئی ہے جن ڈاکٹروں سے چیک اپ کروایا گیا وہ اس کے ماہر ہی نہیں تھے، ان کے وکلاء اور اہلخانہ کو کیوں مطلع نہیں کیا گیا؟۔ علامہ راجہ ناصر عباس

بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد، اپوزیشن کا شدید احتجاج
whatsapp sharing button
اسلام آباد: (ویب  نیوز )
سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد کردی گئی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔  پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر عون عباس بپی نے ایوان میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد پیش کی جس کی حکومت کی جانب سے مخالفت کی گئی، قرارداد مسترد ہونے پر پی ٹی آئی سینیٹرز چئیرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج و نعرے بازی کی۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہتے ہیں، آج اس پر بات کرنی ہے تو تحریک کیوں پیش کی جارہی ہے؟ سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن پر چیزیں کلئیر ہوگئی ہیں، سلمان صفدر نے رپورٹ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سیکورٹی پر مطمئن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر ہر دوسرے روز معائنہ کرتے ہیں، اب تک باہر کے ڈاکٹروں نے 25 مرتبہ چیک اپ کیا، سپریم کورٹ میں ان کی پٹیشن پر فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا گیا، انہیں کسی اور ڈاکٹر سے چیک اپ کیا جائے، حکومت نے سپریم کورٹ کو کہا ہے کہ کوئی اور ڈاکٹر کہیں گے تو ہم ان سے چیک اپ کروائیں گے، سپریم کورٹ سے جو بھی حکم ہوگا حکومت اس پر عمل کرے گی۔

اپوزیشن لیڈرعلامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آنکھ کی بینائی ایک دم سے ختم نہیں ہوسکتی، رانا ثناء اللہ کو جو لکھ کر دیا گیا انہوں نے وہ پڑھ کر سنا دیا، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے لاپرواہی ہوئی ہے جن ڈاکٹروں سے چیک اپ کروایا گیا وہ اس کے ماہر ہی نہیں تھے، ان کے وکلاء اور اہلخانہ کو کیوں مطلع نہیں کیا گیا؟۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کسی جرنیل، بیوروکریٹ یا جج کو جیل میں نہیں دیکھا، صرف سیاستدان جیلوں میں ہوتے ہیں، ہمیں کہیں سے تو واپس جانا پڑے گا، بیرسٹر سلمان کی رپورٹ میں جو لکھا ہے ان کی صحت کے حوالے سے وہ پڑھیں، تسلیم کریں کہ غلطی ہوئی ہے۔

قومی اسمبلی کے باہر عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے دیے گئے دھرنے میں  بات کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ کے مطابق عمران خان  کی بینائی 80 فیصد سے زائد ختم ہو گئی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کی مرضی کے کسی اسپتال منتقل کیا جائے۔

محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کی صحت سے متعلق پیشرفت کی جاتی ہے تو یہ دھرنا منتشر ہو جائے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو وقت کے ساتھ مزید مطالبے بھی شامل ہوتے چلے جائیں گے، اس حکومت کی اتنی غلطیاں ہیں کہ پھر دھرنے ہی دھرنے ہوں گے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ حکومت کو سب معلوم ہے، رانا ثنا اللہ سرکار کی طرف سے جواب دیتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نہ صرف سابق وزیراعظم بلکہ ایک انسان اور ایک قیدی بھی ہیں، ان  کی آنکھ ضائع ہو رہی ہے، آپ ان کو نزدیک ترین اسپتال منتقل کردیں، اسپتال کو سب جیل ڈیکلیئر کردیں اور انہیں علاج کی سہولت دیں۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ یہ 10 منٹ کی بھی بات نہیں کہ ایک ڈاکٹر جائے چیک اپ ہو اور انہیں شفٹ کر دیا جائے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ 2 ہفتے بعد صدر پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے، اگر یہی رویہ رہا تو پھر صدر ایوان میں کیسے خطاب کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ قصداً چاہتے ہیں کہ اس پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہو،  پارلیمنٹ کمزور ہو اور یہاں ایوان کام نہ کرے۔

عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے سزا ہوئی، وہاں جیل میں منتقل کریں گے: محسن نقوی

عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے سزا ہوئی، وہاں جیل میں منتقل کریں گے: محسن نقوی
whatsapp sharing button
اسلام آباد:(ویب  نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے سزا ہوئی ہے، انہیں اسلام آباد میں قائم نئے جیل منتقل کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت جیل، میڈیکل اور اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے اور ایسے ماڈل تیار کیے جا رہے ہیں جہاں قیدیوں کو صحت، علاج اور دیگر بنیادی سہولیات ایک ہی جگہ میسر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے ماڈل جیل کمپلیکس میں ایک جدید اور مکمل سہولیات سے آراستہ ہسپتال قائم کیا جا رہا ہے جہاں مختلف بیماریوں کے علاج کے ساتھ خصوصی شعبے بھی موجود ہوں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مقصد یہ ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ علاج کے لیے بار بار باہر لے جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

 

عمران خان کی تکلیف پر سیاست مجرمانہ، ہرممکن علاج کرائیں گے: طارق چودھری

عمران خان کی تکلیف پر سیاست مجرمانہ، ہرممکن علاج کرائیں گے: طارق چودھری
whatsapp sharing button

طارق فضل چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہی سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کا رنگ دیا، بانی پی ٹی آئی اپنے جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، بانی کی تکلیف پر بھی سیاست ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل حکام اور حکومت کے کہنے پرہی پمز ہسپتال میں علاج معالجہ ہوا، ایک سپر سپیشلسٹ نے بھی بانی کی صحت پر ایک رپورٹ مرتب کی، چیف جسٹس آف سپریم کورٹ خود اس کیس کو دیکھ رہے ہیں، جہاں کہیں گے بانی کی آنکھ کا معائنہ کرایا جائے گا۔

طارق فضل چودھری نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے،حقائق کوتوڑ مروڑ کر پیش کرنا مجرمانہ غفلت ہے، آنکھوں کے بہترین ڈاکٹروں کو دکھایا جائے گا، بانی کی آنکھ کا ہر ممکن علاج کرائیں گے، احتجاج پارلیمنٹیرینز کا حق ہے، اس کیس کو سیاسی انداز میں نہ اچھالا جائے اورنہ ہی سیاست کی جائے۔