- اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ | اندرونی بحران شدت اختیار کر گیا
مقبوضہ بیت المقدس (صباح نیوز)یسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والی خواتین فوجی (مجندات) کی ماؤں نے وزیرِاعظم نتنیاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیرِ خزانہ سموتریتش کو فوری طور پر ان کے عہدے سے برطرف کریں۔یہ مطالبہ سموتریچ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جسے خواتین فوجی کی ماؤں نے انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ بیان میں سموتریچ نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی پرورش اس انداز میں کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی فوج میں شمولیت اختیار نہ کرے۔ اس بیان نے اسرائیلی معاشرے بالخصوص فوجی خاندانوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، خواتین فوجی کی ماؤں کا کہنا ہے کہ جب حکومتی وزراء خود فوج میں شمولیت کی حوصلہ شکنی کریں گے تو اس سے نہ صرف فوج کا مورال متاثر ہوگا بلکہ ریاستی بیانیے کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق، ایسے بیانات دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتے اور اندرونی انتشار کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے اسرائیلی سیاسی اور عسکری حلقوں میں پہلے سے موجود اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے، اور یہ بحران اب محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی شکل اختیار کر چکا ہے۔ غزہ میں جاری نسل کشی کی جنگ نے نہ صرف اسرائیلی فوج کو شدید ذہنی دباؤ اور اخلاقی بحران سے دوچار کیا ہے، بلکہ قابض اسرائیل کے وزراء تک کو بھی ذہنی مفلوجی اور فکری انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔ باہمی تضادات، غیر ذمہ دارانہ بیانات اور اندرونی خلفشار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ جنگ قابض اسرائیلی ریاستی و عسکری ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔





