14 اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت ، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح ور خلافزی قرار دیا ہے۔

امریکی سفیر نے کہا تھا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، اسلامی ممالک کے اعلامیہ میں امریکی سفیر کے بیان کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔

 یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں، جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے۔ اعلامیہ 

امریکی سفیر کے بیان پر سعودی عرب کا شدید ردعمل…مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیلی کنٹرول کی تجویز ناقابلِ قبول، دو ریاستی حل ہی امن کا راستہ قرار

 اس ‘سازشی نظریے’ کو سوشل میڈیا پر بظاہر ایسے اسلامی اکاؤنٹس کے ذریعے بڑھاوا دیا جاتا ہے جو ‘پاکستان اور ترکی جیسے ممالک سے چلائے جاتے ہیں۔’ امریکی سفیر 

پاکستان سمیت 14 ممالک نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا بیان مسترد کر دیا

اسلام آباد: (ویب نیوز  )

امریکی سفیر نے کہا تھا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، اسلامی ممالک کے اعلامیہ میں امریکی سفیر کے بیان کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں، جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے۔

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ ٹرمپ کا جامع منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، جبکہ دوسروں کی سرزمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینے والے امریکی سفیر کے بیانات امن کے بجائے اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔

مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں، وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تصادم کو مزید ہوا دے گا اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچائے گا، ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔

اسلامی ممالک کے شدید ردِ عمل پراسرائیل کے لیے امریکی سفیر کی وضاحت

واشنگٹن(ویب  نیوز) اسلامی ممالک کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آنے کے بعد، اسرائیل کے لیے  امریکی سفیر مائیک ہکابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر ایک تفصیلی وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ یہ وضاحت معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ان کے حالیہ انٹرویو کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ ایکس پر ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  انھیں توقع نہیں تھی کہ ٹکر کارلسن ان سے اتنے لمبے لمبے سوالات پوچھیں گے جس میں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے نظر آئے کہ ‘آج کے زمانے کے یہودی واقعی بائبل کے یہودیوں سے مختلف ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ اشکنازی یہودی خاندان صدیوں سے یورپ میں رہتے آئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اسرائیل کی یہودی آبادی کا ایک اقلیتی حصہ ہیں سیفاردی اور میزراہی بہت زیادہ ہیں۔ مائیک ہکابی کا مزید کہنا تھا کہ ٹکر کارلسن ایک سازشی نظریے کو فروغ دے رہے ہیں جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر شروع ہوا تھا۔ امریکی سفیر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اس نظریے کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ اس ‘سازشی نظریے’ کو سوشل میڈیا پر بظاہر ایسے اسلامی اکاؤنٹس کے ذریعے بڑھاوا دیا جاتا ہے جو ‘پاکستان اور ترکی جیسے ممالک سے چلائے جاتے ہیں۔’ انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نظریہ کو یہودیوں کو غیر قانونی قرار دینے اور ان کی تاریخ چھیننے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ‘میں نہیں جانتا کہ ٹکر اس موضوع پر اس قدر توجہ کیوں دے رہے تھے، اور میں دعویٰ بالکل بھی نہیں کر رہا کہ وہ اس سازشی نظریے کی شروعات کے متعلق آگاہ ہیں۔ نہ میں جانتا ہوں کہ ان کے دل میں کیا تھا یا وہ کیا سوچ رہے تھے

امریکی سفیر کے بیان پر سعودی عرب کا شدید ردعمل

ریاض (ویب  نیوز)سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیل کے مکمل کنٹرول کی تجویز غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ ریمارکس اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور تسلیم شدہ سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے بیانات ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں، خصوصاً جب وہ ایک امریکی عہدیدار کی جانب سے دیے جائیں، اور یہ خطے کے ممالک اور امریکا کے درمیان دیرینہ تعلقات کے منافی ہیں۔ سعودی حکومت نے کہا کہ انتہا پسندانہ بیانات عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں اور خطے کے ممالک اور عوام کو اشتعال دلا کر بین الاقوامی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں، جو ریاستوں کی خودمختاری اور جغرافیائی سرحدوں کے احترام پر قائم ہے۔ بیان میں امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بیان پر اپنی پوزیشن واضح کرے، کیونکہ اسے دنیا بھر کے امن پسند ممالک مسترد کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ریاست کی خودمختاری، سرحدوں اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق منصفانہ اور جامع امن کا واحد راستہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق دو ریاستی حل اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔