لیڈ ( آبنائے ہرمز بند ) جہازوں کو آگ لگا نے کی دھمکی ( 180 شہید طالبات کی تدفین)
اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والی 180 شہید طالبات کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، معصوم پھولوں کو آہوں اور سسکیوں میں سپردخاک کردیا گیا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق 180 کمسن شہید طالبات کی نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی،
روئٹرز کے مطابق یہ ایران کی اب تک کی سب سے واضح وارننگ ہے، اس اقدام سے عالمی تیل کی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہو سکتا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جو خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے۔
ایران کے 172 میزائل تباہ کرچکے، 3 افراد جاں بحق ہوئے، ہم نے اپنی خود مختاری کی حفاظت کرتے ہوئے جنگی تیاری کو برقرار رکھا ہے، ہمارے جنگی طیارے خود مختاری کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے املاک کو نقصان ہوا، ترجمان یو اے ای وزارت دفاع
اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والی 180 شہید طالبات کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، معصوم پھولوں کو آہوں اور سسکیوں میں سپردخاک کردیا گیا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق 180 کمسن شہید طالبات کی نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی،

تہران (ویب نیوز ): ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جو بھی بحری جہاز گزرے گا اسے آگ لگا دیں گے۔ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے انتباہ جاری کر دیا ہے، ایرانی کمانڈر انچیف کے مشیر ابراہیم جباری نے پیر کے روز سرکاری ٹی وی پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اس علاقے میں نہ آئیں ورنہ سخت ردعمل کا سامنا کریں گے، ابراہیم جباری نے یہ بھی کہا کہ امریکی اس خطے کے تیل کے پیاسے ہیں، ایران ان کی پائپ لائنوں کو نشانہ بنائے گا اور اس علاقے سے تیل برآمد نہیں ہونے دے گا۔
روئٹرز کے مطابق یہ ایران کی اب تک کی سب سے واضح وارننگ ہے، اس اقدام سے عالمی تیل کی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہو سکتا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف کے سینئر مشیر نے کہا ’’آبنائے ہرمز بند ہے۔ اگر کوئی گزرنے کی کوشش کرے گا تو پاسدارانِ انقلاب اور باقاعدہ بحریہ کے ہیرو اُن جہازوں کو آگ لگا دیں گے۔‘‘
آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم تیل برآمدی راستہ ہے، جو خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے۔
یہ بندش 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عمل میں آئی، جن کا مقصد ایرانی قیادت کا تختہ الٹنا بتایا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو حکمران مذہبی قیادت کو ہٹانے میں مدد کی پیشکش بھی کی تھی۔ جواباً ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک، جیسے قطر، کویت اور بحرین، پر کئی میزائل حملے کیے۔ تہران نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عمان پر بھی میزائل داغے۔
اس اقدام کے ساتھ تہران نے برسوں سے دی جانے والی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیا کہ اسلامی جمہوریہ پر کسی بھی حملے کے جواب میں وہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو بند کر دے گا۔ دنیا کی یومیہ تیل کھپت کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جو اپنے سب سے تنگ مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر (21 میل) چوڑی ہے۔
ترجمان یو اے ای وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ہم اب تک ایران کے 175 میزائل تباہ کرچکے ہیں جو زیادہ تر سمندر میں گرے، ایران کے میزائل حملوں میں 3 افراد جاں بحق اور 68 زخمی ہوئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع، وزارت خارجہ، معیشت اور نیشنل ایمرجنسی اتھارٹی کے حکام نے پریس بریفنگ دی ہے۔ پریس بریفنگ میں اماراتی حکام کی جانب سے میزائلوں کا تباہ ملبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی خود مختاری کی حفاظت کرتے ہوئے جنگی تیاری کو برقرار رکھا ہے، ہمارے جنگی طیارے خود مختاری کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے املاک کو نقصان ہوا، میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنا ہماری عسکری طاقت کا ثبوت ہے۔
ترجمان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہمارا جو بھی نقصان ہوا ہے وہ میزائل یا ڈرون لگنے سے نہیں ملبہ گرنے سے ہوا ہے، ہماری سرزمین پر کوئی بھی میزائل براہ راست نہیں گرا بلکہ ملبہ گرا ہے، ہمارے ڈیفنس سسٹم نے تمام میزائل اور ڈرونز کو بروقت روکا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق 180 کمسن شہید طالبات کی نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی، جنازے کے دوران سوگواروں نے امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والی تصویر شیئر کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو معصوم بچوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مناب میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والی 180 کمسن طالبات کی قبروں کی تصویر ٹویٹ کی تھی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری میں معصوم بچیوں کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حملہ جان بوجھ کر ایک پرائمری اسکول پر کیا گیا جہاں صرف معصوم طالبات موجود تھیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے پر سخت طنز کیا جس میں انہوں نے ایرانی عوام کو ”ریسکیو“ کرنے یا نجات دلانے کی بات کی تھی۔
وزیر خارجہ نے لکھا کہ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے جس’ریسکیو‘ کا وعدہ کیا تھا، اس کی اصل حقیقت یہ قبریں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے لے کر مناب تک معصوم شہریوں کا قتلِ عام امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔
دشمن کو اندازے لگانے کی غلطی پر پچھتانا ہوگا، علی لاریجانی

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ ہم اپنی 6 ہزار سالہ تہذیب کا دفاع کریں گے، قیمت کچھ بھی چکانی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو اندازے لگانے کی غلطی پر پچھتانا ہوگا، 300 سال کی طرح اس بار بھی جنگ میں پہل ہم نے نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران کے سیکورٹی چیف اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا، حالانکہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران امریکا سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بات چیت یا مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا، خاص طور پر موجودہ کشیدگی اور تازہ حملوں کے پس منظر میں۔
انہوں نے کہا کہ تہران کے لیے اب امن مذاکرات کی راہ پسندیدہ نہیں ہے اور وہ اپنے دفاعی اور قومی مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا۔





