ریاض اب بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم مملکت کی سلامتی یا آئل تنصیبات پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ سعودی حکام

    مشرقِ وسطیٰ/ بڑھتی کشیدگی… سعودی عرب  جوابی حملے کر سکتا ہے ( ایران کو وارننگ)

اسرائیل  اور ایران   کے درمیان ہفتے کے روز متعدد حملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کے ڈرونز نےدہبی  کے قریب امریکی فضائی جنگی مرکز کو نشانہ بنایا، تاہم اس خبر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اہداف ہیں۔ تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جائے۔ ایران نے بحرین  میں امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جبکہ دوحہ  میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ریاض + تهران  (ویب  نیوز ): سعودی عرب نے مملکت میں امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد پہلی بار ایران کو جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی۔ اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد ایران نے سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل حملے کر کے ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچانا شروع کیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے پہلی بار ایران کو براہِ راست جوابی کارروائی کی وارننگ دے دی اور واضح کیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ریاض خاموش نہیں بیٹھے گا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو پیغام دیا ہے کہ ریاض اب بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم مملکت کی سلامتی یا آئل تنصیبات پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔  ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک نے اب تک ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، لیکن اگر خطے میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو سعودی عرب امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کا موقف ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اہداف ہیں۔ تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جائے۔

دریں اثنا سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری آرامکو نے تیل کی ترسیل کیلیے متبادل انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی طور پر تیل کی محدود ترسیل ینبوع بندرگاہ کی جانب منتقل کر دی گئی ہے۔ کمپنی آپریشنز کی بحالی کیلیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ سعودی آرامکو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خطہ کی صورتحال اور حالات کا قریبی جائزہ لیا جا رہا ہے، صورتحال کو دیکھتے ہوئے حالات معمول پر لائیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ  نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے اور امکان ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک تہران کے پاس کوئی فعال فوج یا اقتدار میں کوئی قیادت باقی نہ رہے۔ ہفتے کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ فضائی حملوں کی مہم مذاکرات کو غیر ضروری بنا سکتی ہے اگر ایران کے تمام ممکنہ رہنما مارے جائیں اور اس کی فوج تباہ ہو جائے۔

انہوں نے کہا “کسی وقت ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ شاید وہاں کوئی باقی ہی نہ بچے جو کہے کہ ‘ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں’۔”

اس دوران اسرائیل  اور ایران   کے درمیان ہفتے کے روز متعدد حملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی۔

ایران کے صدرنے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملوں سے متاثر ہونے والے ہمسایہ ممالک سے معذرت کی، تاکہ خلیجی خطے میں بڑھتے غصے کو کم کیا جا سکے، تاہم اس بیان پر ایران کے اندر سخت گیر حلقوں نے تنقید کی۔

انہوں نے کہا “میں ذاتی طور پر ان ہمسایہ ممالک سے معافی چاہتا ہوں جو ایران کے اقدامات سے متاثر ہوئے۔” انہوں نے ان ممالک سے اپیل کی کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں شامل نہ ہوں۔

پزشکیان نے ٹرمپ کے ایران کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو “ایک خواب” قرار دیا، تاہم کہا کہ عارضی قیادتی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے ان ممالک کی سرزمین سے نہ ہوں تو پڑوسی ممالک پر حملے روک دیے جائیں گے۔

ایران کی قیادت میں اختلافات کی خبروں کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم  نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز  کے جو ارکان ہتھیار ڈال دیں گے انہیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجا نی   نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ جنگ کے معاملے پر ایرانی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں۔  اوسلو   میں اتوار کی صبح امریکی سفارت خانے کے قریب دھماکہ ہوا جس سے معمولی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق سفارت خانے کے کمپاؤنڈ کے اطراف دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ دھماکہ کس وجہ سے ہوا۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق اتوار کی صبح ریاض کے سفارتی علاقے میں ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کے ڈرونز نےدہبی  کے قریب امریکی فضائی جنگی مرکز کو نشانہ بنایا، تاہم اس خبر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس کے علاوہ ایران نے بحرین  میں امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جبکہ دوحہ  میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اسرائیل اور ان خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

اسرائیل نے لبنان  کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران نواز تنظیم ہیزبوللہ  کو نہ روکا تو اسے “بہت بھاری قیمت” چکانا پڑے گی۔

اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پیر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر  کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 1332 ایرانی شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری طرف ایران کے حملوں میں اسرائیل میں 10 افراد جبکہ 6 امریکی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا ہے اور تیل کی قیمتیں کئی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں کیونکہ  ہورمز عملی طور پر بند ہو چکا ہے۔

:عمان ایئر نے خطے میں فضائی حدود کی بندش کے باعث اپنی متعدد پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق عمانی فضائی کمپنی کے مطابق متاثرہ روٹس میں عمان (اردن)، دبئی، بحرین، دوحہ، دمام، کویت، کوپن ہیگن، بغداد اور خصب کے لیے آنے اور جانے والی پروازیں شامل ہیں۔

گلف نیوز کا کہنا ہے کہ پروازوں کی یہ منسوخی پیر 9 مارچ سے اتوار 15 مارچ 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سفر کے شیڈول کا ازسرنو جائزہ لیں اور اسی کے مطابق منصوبہ بندی کریں۔

عمان ایئر نے متاثرہ مسافروں کی سہولت کے لیے متبادل پروازوں کا شیڈول بھی جاری کیا ہے، جس کی تفصیلات کمپنی کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

ترجمان عمان ایئر کا کہنا ہے کہ مسافر اپنی بکنگ میں تبدیلی یا دوبارہ بکنگ کے لیے ویب سائٹ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ایئر لائن نے اس غیر یقینی صورتحال کے باعث مسافروں کو پہنچنے والی زحمت پر معذرت کرتے ہوئے ان سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

ریاض (08 مارچ 2026): خلیج تعاون کونسل نے بحرین اور کویت پر مسلسل ایرانی حملوں کو خطرناک جارحیت قرار دے دیا ہے۔

ایرانی حملوں میں خطے کو نشانہ بنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدوی نے کہا ہے کہ ایرانی حملے علاقائی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

انھوں نے کہا حملوں میں اہم سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور چارٹرز کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے، تمام خلیجی ممالک بحرین اور کویت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یاد رہے کہ گلف کوآپریشن کونسل اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو ایک اجلاس میں خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں پر تبادلہ خیال کیا تھا، یورپی یونین کے رکن ممالک عام طور پر خارجہ پالیسی کے معاملات پر کم ہی متفق ہوتے ہیں، اس لیے یہ قابلِ ذکر بات تھی کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان وسیع تر تنازع پر اختلاف کے باوجود اس معاملے پر متفقہ مؤقف اختیار کرنے میں کامیاب رہے۔

یورپی ممالک نے اس بات پر بھی خلیجی ریاستوں کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے خطے سے یورپی شہریوں کے انخلا میں مدد فراہم کی۔ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے جمعرات کے مذاکرات میں باری باری اپنے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ ہمدردی، تفہیم اور حمایت کا اظہار کیا۔ اور یہ فیصلہ کیا کہ ایران کو خلیجی ممالک پر حملے روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو باہم مربوط کیا جائے گا۔

ای یو نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ خلیج تعاون کونسل کی ریاستوں کو اپنی سلامتی اور استحکام کے دفاع اور اپنے علاقوں، شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے ’’تمام ضروری اقدامات‘‘ کرنے کا حق حاصل ہے۔