سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کیلئے ہر قسم کے اقدامات کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر کابینہ کا ورچوئل اجلاس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی گفتگو
لیڈ (ایرانی حملے/ 37 ویں لہر) امریکی و اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ( بن گوریان ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا۔)
آپریشن وعدہ صادق 4 کی 37 ویں لہر کے تحت 3 گھنٹے تک مسلسل میزائل حملے کیے گئے، حملوں میں عراق کے شہر اربیل ، بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹراور اسرائیل کے شہر تل ابیب میں فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب کا بیان
تہران کے انقلاب سکوائر کے قریب نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے یکجہتی کیلئے نکالی گئی ریلی کے دوران امریکا اور اسرائیل نے حملہ کر دیا، دھماکوں کی ویڈیو ایرانی سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر ہوئی، دھماکوں کی آواز سے ڈرنے کے بجائے ایرانی ڈٹ کر مزاحمت کرتے رہے۔
جنوبی تل ابیب میں واقع سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو دوسری بار نشانہ بنایا گیا جبکہ مقبوضہ بندرگاہ حیفہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سعودیہ کا ڈرون مار گرانے اور 6 بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ. ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبریں مسترد . وہ محفوظ اور خیریت سے ہیں۔ یوسف پزشکیان

پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 37 ویں لہر کے تحت 3 گھنٹے تک مسلسل میزائل حملے کیے گئے، حملوں میں عراق کے شہر اربیل ، بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹراور اسرائیل کے شہر تل ابیب میں فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی آر جی سی کے مطابق جنوبی تل ابیب میں واقع سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو دوسری بار نشانہ بنایا گیا جبکہ مقبوضہ بندرگاہ حیفہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ حملوں میں خیبر شکن، قدر اور خرم شہر میزائل استعمال کئے گئے، ان میزائلوں میں متعدد وارہیڈز نصب تھے جبکہ قدر میزائل کے وارہیڈ کا وزن تقریباً ایک ٹن بتایا گیا ہے۔
آئی آر جی سی کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 4 گزشتہ ماہ اس وقت شروع کیا گیا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں۔
ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے اہم ترین بن گوریان ایئرپورٹ پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر میزائل حملے کئے جسے اسرائیل کا دفاعی نظام روکنے میں ناکام رہا اور کئی میزائل ایئرپورٹ پر گرے جس سے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق حملوں کے بعد سائرن کی آوازیں گونجتی رہیں، جبکہ اسرائیلی ٹی وی نے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ادھر لبنان سے میزائل حملے میں اسرائیلی فوج کا کمیونیکیشن سسٹم تباہ ہوگیا جبکہ حملے میں 2 اسرائیلی زخمی ہوگئے۔ اس حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون سا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب اسرائیل اور امریکا مناسب سمجھیں گے اور مل کر فیصلہ کریں گے، اسرائیل ایران سے لامحدود جنگ نہیں چاہتا۔ اس کے علاوہ بغداد میں بھی امریکی وکٹوریہ ایئربیس پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کیا گیا، حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
متحدہ عرب امارات میں بھی میزائل اور ڈورنز سے حملہ کیا گیا، اماراتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈورنز اور میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا، پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی علاقے میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب جانے والے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔
سعودی وزارت نے بتایا کہ آج کئی ڈرونز کو بھی ناکام بنایا گیا ہے، جن میں دو شمال مشرقی شہر حفر الباطن میں مار گرائے گئے۔

سعودی وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق ملک کے جنوب مشرق میں واقع آئل فیلڈ کی طرف اڑنے والے دو ڈرونز کو بھی روک دیا گیا ہے، تاہم بیانات میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ میزائل اور ڈرونز کہاں سے داغے گئے تھے۔
دوسری جانب بحرین میں بھی سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں، یاد رہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈ کوارٹر قائم ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسری نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکا یا اس کے اتحادیوں کے کسی بھی فوجی بحری جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسری کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکا کے وزیر توانائی نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو حفاظتی حصار فراہم کیا، بعد میں انہوں نے یہ بیان سماجی رابطے کی ویب گاہ سے حذف کر دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ کے مطابق آبنائے ہرمز سے کسی تیل بردار جہاز کے امریکی فوجی حفاظت میں گزرنے کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں کا کوئی بحری بیڑا اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے ایرانی میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے روک دیا جائے گا۔

تہران کے انقلاب سکوائر کے قریب نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے یکجہتی کیلئے نکالی گئی ریلی کے دوران امریکا اور اسرائیل نے حملہ کر دیا، دھماکوں کی ویڈیو ایرانی سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر ہوئی، دھماکوں کی آواز سے ڈرنے کے بجائے ایرانی ڈٹ کر مزاحمت کرتے رہے۔
ایرانی شہریوں نے دھماکوں کی گونج میں مزید شدت کے ساتھ اپنے ملک کے جھنڈے لہرائے، امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔

دوسری جانب اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے کئے گئے ایران کے شہر اصفہان پر حملوں میں روسی قونصل خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا جس کی روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے تصدیق بھی کی ہے۔
ترجمان کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں اصفہان کے گورنر کے دفتر کے قریب ہونے والے حملے کے نتیجے میں روسی قونصل خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے، دھماکے سے قونصل خانے کے دفتر اور رہائشی اپارٹمنٹس کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

ماریا زاخارووا کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر نئی فضائی کارروائی کی ہے، یہ حملے جنوبی بیروت میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کیلئے کئے گئے ہیں، دونوں جانب سے بھاری توپ خانے اور راکٹوں کا استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق لبنان میں جاں بحق افراد کی تعداد 570 ہوگئی، جبکہ ایک ہزار 444 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 7 لاکھ 60 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

ریاض: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ ملکی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کیلئے ہر قسم کے اقدامات کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بارے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کا ورچوئل اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سعودی کابینہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، خود مختاری کیلئے تمام اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق کابینہ نے سعودی فضائی دفاعی نظام کی اعلیٰ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی نظام نے تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو کامیابی سے ناکارہ بنایا۔
سعودی کابینہ نے سعودی عرب، خلیجی اور دیگرعرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی اور مؤقف اپنایا کہ سویلین اہداف اور تیل کی تنصیبات پر حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سعودی کابینہ نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے مشترکہ وزارتی اجلاس قابل قدر ہے، عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اجلاس میں ایرانی جارحیت کے خلاف مذمتی قراردادوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس خبر کے بعد انہوں نے اپنے ایسے دوستوں سے رابطہ کیا جن کے متعلقہ حلقوں میں رابطے تھے، ان دوستوں نے بتایا کہ الحمدللہ مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ اور خیریت سے ہیں۔





