امریکی اور چینی صدور کی ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں ہیں، اس ملاقات میں ایران تنازع، عالمی تجارتی رکاوٹوں، ٹیرف معاملات سمیت کئی ایسے امور زیر بحث  ہیں   جن کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں، تائیوان کے مسئلے کو درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ملکوں میں تصادم ہوگا۔

لیڈ ( ٹرمپ کو تائیوان تنازع پر انتباہ) حریف کی بجائے شراکت داری کا مشورہ

تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا، امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ

میڈیا کے نمائندوں نے دو مرتبہ سوال کیا کہ کیا دونوں ممالک کے صدور نے تائیوان پر بات کی ہے، مگر ٹرمپ اور شی جواب دیے بغیر ہی مندر کی جانب بڑھ گئے۔ اور جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ مذاکرات کیسے رہے تو ٹرمپ نے کہا کہ انتظار کریں۔

اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے، اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ چینی صدر ٹرمپ سے استفسار .

ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ

چینی صدر شی کا ٹرمپ کو تائیوان تنازع پر انتباہ، حریف کے بجائے شراکت دار بننے کا مشورہ
whatsapp sharing button
بیجنگ: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر ٹرمپ چین کے تاریخی دورہ میں چینی صدر سے وفود کی سطح پر ملاقات کے لیے پیپلز ہال پہنچے جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، چینی اور امریکی صدور کے درمیان گفتگو دو گھنٹے تک جاری رہی۔

چین آئے امریکی صدر نے بیجنگ میں قدیم عبادت گاہوں کے مجموعے اور ایک اہم سیاحتی مرکز، ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، کچھ دیر بعد چینی صدر شی جن پنگ بھی وہاں پہنچے اور دونوں رہنماؤں نے تصاویر بنوائیں۔ ایک مرکزی حال کے سامنے تصویر بنواتے ہوئے ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا کہ یہ ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے، چین خوبصورت ہے۔ قدیم عبادت گاہوں کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس وہ مقام ہے جہاں منگ اور چنگ سلطنتوں کے شہنشاہ قربانیاں پیش کرتے اور اچھی فصلوں کے لیے دعا کرتے تھے۔

ٹرمپ کے ہمراہ آنے والے میڈیا کے نمائندوں نے دو مرتبہ سوال کیا کہ کیا دونوں ممالک کے صدور نے تائیوان پر بات کی ہے، مگر ٹرمپ اور شی جواب دیے بغیر ہی مندر کی جانب بڑھ گئے۔ اور جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ مذاکرات کیسے رہے تو ٹرمپ نے کہا کہ انتظار کریں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا، امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

چینی صدر نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ امریکا اور چین کے تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے، تائیوان کی آزادی اور امن ایک ساتھ نہیں چل سکتے، تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں، تائیوان کے مسئلے کو درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ملکوں میں تصادم ہوگا۔

انہوں نے امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز سے کہا کہ امریکہ اور چین کی تجارتی ٹیموں کے درمیان گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں مجموعی طور پر متوازن اور مثبت نتائج حاصل ہوئے، کاروبار کے لیے چین کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی ترقی میں امریکی کمپنیوں کا بہت زیادہ کردار ہے اور اس سے دونوں فریقوں کو فائدہ ہوا، بیجنگ باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کا خیر مقدم کرتا ہے۔

چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے، اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ہوگا، ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہئے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہئے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہئے۔

اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس دورے پر دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں کو ساتھ لائے ہیں، بعض لوگوں نے اس ملاقات کو اب تک کی سب سے بڑی سمٹ قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے۔

ٹرمپ نےکہا کہ ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں،امریکی صدر کے وفد میں اہم شخصیات شامل ہیں، ٹیسلا کے بانی ایلون مسک، این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ وفد کا حصہ ہیں، ایپل کے سی ای او ٹم کک، بلیک راک سی ای او لیری فنک اور دیگر بھی وفد میں شامل ہیں۔

امریکی و چینی صدر کی ملاقات بارے وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کر دیا

ا مریکی و چینی صدر کی ملاقات بارے وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کر دیا

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کیلئے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اقتصادی تعاون بڑھانے کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، چین کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق ملاقات کے دوران امریکا میں منشیات کے خام اجزا کی سمگلنگ روکنے کے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنما متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیئے جائیں گے۔