حکومت اپوزیشن مذاکرات کامیاب، مشترکہ اعلامیہ تیار
ا سلام آباد (ویب نیوز) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ تیار کرلیا گیا۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود مذاکرات میں حصہ لیا ۔
مذاکرات میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ نہیں ہوگا، حکومت اور اپوزیشن میں اتقاق ہوگیا
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فریقین میں طے پایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں لگایا جائے گا۔
حکومت اوراپوزیشن اس بات پر متفق ہیں کہ بانی پی ٹی آئی سے عدالتی احکامات کی روشنی میں ملاقاتیں بحال ہوں گی اور اسلام آباد کی جانب کوئی لانگ مارچ نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکوؤں کے ساتھ آغاز ہوا، وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کے لیے لانگ مارچ منسوخ کرنےکی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کر دیا۔
اِسی طرح حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینیئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبا زبان بھی استعمال کی گئی، ایسےمیں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟
ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن نے جواب میں کہا کہ آپ وزیردفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ بارے کیا کہیں گے، کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
دوسری جانب حکومتی وفد کا مؤقف تھا کہ ہم کھلےدل سے آئے ہیں اور مکمل با اختیار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کریں تاکہ مذاکرات آگےبڑھیں۔
مزید برآں ذرائع نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے اور لانگ مارچ ملتوی پر خصوصی کمیٹیوں کے ذریعےبات چیت جاری رکھنےکی تجویزپرغور ہے۔
ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ دونوں فریق قیادت سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بڑی وجہ
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے مذاکرات رات گئے تک جاری رہنے کا امکان ہے، معاہدے پر دستخط سے قبل اتوار کو مذاکرات کا تیسرا دور بھی ہوسکتا ہے۔
مذاکرات میں فریقین معاہدے کی بیشتر شرائط پر آمادہ ہوچکے ہیں، کسی فیصلے کی گارنٹی سے قبل عمران خان سے ملاقات کرانے کا معاملہ ڈیڈ لاک کا باعث بنا ہے، ایک نکتے پر اختلاف کے باعث مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی طرف سے بھی تجویز کی حمایت کی گئی ہے، ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے فریقین ایک دوسرے سے مشاورت کر رہے ہیں، حکومت راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کی عمران خان سے ملاقات پر رضامند ہے۔
حکومت نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی کا معاملہ بھی مذاکرات میں اٹھایا اور پی ٹی آئی کے تمام پارلیمنٹیرینز اور کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
محمود اچکزئی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم سے کہا کہ عمران خان سے ملاقات سے پہلے لانگ مارچ مؤخر نہیں ہوگا، کسی بھی فیصلے سے قبل سہیل آفریدی کی سابق وزیر اعظم سے ملاقات کروائی جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے یقین دہائی کروائی کہ سہیل آفریدی اور عمران خان کی ملاقات میں جو بھی گفتگو ہوگی اسے راز رکھا جائے گا، اگر بانی پی ٹی آئی نے کوئی سخت پیغام بھیجا تو پھر ہم جا کر ملاقات کریں گے، پی ٹی آئی کسی بھی فیصلے کی گارنٹی سے قبل بانی سے ملاقات کرے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی حکومت اور اپوزیشن میں معاہدے کا مسودہ لے کر پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہوگئے۔ وہ ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات میں مذاکرات سے متعلق ان کو بریف کریں گے۔
اسپیکر چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی عمل میں کئی بار اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کی بات چیت کے دوران اتار چڑھاؤ کے کئی مواقع خوشگوار ماحول میں بدلتے رہے، اسپیکر ایاز صادق صورت حال خراب ہونے سے بچاتے رہے، انہوں نے فریقین میں سے کسی کو بھی مذاکرات سے واک آؤٹ نہیں کرنے دیا۔
مذاکرات میں بعض مواقع پر ماحول میں تناؤ بڑھا لیکن اسپیکر نے کشیدہ صورتحال میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
بروقت مداخلت سے مذاکراتی عمل میں تعطل کا امکان ٹال دیا، فریقین نے واک آؤٹ کے بجائے مذاکراتی میز پر رہنے کو ترجیح دی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور کچھ دیر میں اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک لانگ مارچ مؤخر نہیں ہوگا، محمود اچکزئی
تاہم اب اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کروائی جائے ورنہ لانگ مارچ کا فیصلہ مؤخر نہیں ہوگا۔
حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی سے الگ الگ رابطہ کیا۔
محمود اچکزئی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم سے کہا کہ عمران خان سے ملاقات سے پہلے لانگ مارچ مؤخر نہیں ہوگا، کسی بھی فیصلے سے قبل سہیل آفریدی کی سابق وزیر اعظم سے ملاقات کروائی جائے۔






