60 لاکھ روپے سے تعمیر سکول ایک سال بعد بھی غیر فعال، الگڑ کی بچیاں تعلیم سے محروم

تقریباً تین دہائیاں قبل الگڑ میں تعلیم کا سفر ایک کمرے اور چند بچوں سے شروع ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ آبادی اور تعلیمی ضروریات میں اضافہ ہوا، تاہم بنیادی تعلیمی سہولتوں کی کمی برقرار رہی۔ ایسے میں زرداد خان کی جانب سے 60 لاکھ روپے کی ذاتی رقم سے اسکول کی عمارت تعمیر کرانا علاقے کی بچیوں کے بہتر مستقبل کے لیے اہم قدم تھا، لیکن عمارت کی تعمیر کے باوجود اسکول فعال نہ ہو سکا۔
مقامی شہری آصف کے مطابق الگڑ اور گردونواح کی طالبات کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے دور دراز دیہات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ بارش کے دوران کچے اور دشوار گزار راستے، کیچڑ اور پھسلن ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ کم عمر بچیوں کے لیے اسکول پہنچنا اور چھٹی کے بعد بحفاظت گھروں کو واپس آنا بھی والدین کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
مقامی رہائشی رفاقت علی کا کہنا ہے کہ طالبات کو روزانہ طویل فاصلہ طے کرکے تعلیمی اداروں تک پہنچنا پڑتا ہے، جبکہ مناسب اور محفوظ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث بعض خاندانوں کے لیے بچیوں کو باقاعدگی سے اسکول بھیجنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق خراب موسم اور دشوار گزار راستوں کے باعث طالبات کی غیر حاضری بڑھنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔
علاقے کی رہائشی زیتون بی بی نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر پیدل سفر کرکے دوسرے گاؤں جاتی ہیں۔ بارش اور خراب موسم میں بیٹیوں کی بحفاظت واپسی تک انہیں شدید پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔
زیتون بی بی نے حکومت آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ زرداد خان کی تعمیر کردہ عمارت کو فوری طور پر فعال کرکے اس میں پرائمری اسکول قائم کیا جائے تاکہ الگڑ سمیت قریبی نصف درجن سے زائد دیہات کی بچیوں کو تعلیم کے لیے دور دراز علاقوں میں جانے کی مجبوری سے نجات مل سکے۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے آبائی علاقوں کی ترقی اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اسکول کی عمارت تعمیر ہونے کے بعد متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ کی تعیناتی اور تدریسی عمل کے آغاز کے لیے فوری اقدامات کریں۔
سیکریٹری تعلیم اسکولز آزاد کشمیر قاضی عنایت نے کہا ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ضلعی تعلیمی افسر سے رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔
الگڑ کی صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ تعلیمی اداروں کی تعمیر کے ساتھ انہیں فعال بنانا بھی ناگزیر ہے۔ مقامی آبادی کی نظریں اب محکمہ تعلیم کے آئندہ اقدامات پر لگی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک شہری اپنی جیب سے 60 لاکھ روپے خرچ کرکے اسکول تعمیر کرا سکتا ہے تو حکومت آزاد کشمیر بچیوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے اس عمارت کو فعال کب بنائے گی؟





