کراچی (ویب ڈیسک)

عدالت نے طاہر حسین عرف منہاس کو نیوی کے کیپٹن کے قتل میں 25سال قید کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت

انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان نیوی کے کیپٹن اور پولیس اہلکار کے قتل کیس میں سانحہ صفورا میں سزائے موت پانے والے کالعدم تنظیم کے سعد عزیز عرف ٹن ٹن ودیگر پر جرم ثابت ہونے پر قتل کیدو مقدمات میں سعد عزیز عرف ٹن ٹن کو مجموعی طور پر 50سال قید کا حکم دے دیا۔ عدالت نے طاہر حسین عرف منہاس کو نیوی کے کیپٹن کے قتل میں 25سال قید کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سعد عزیز کو مقتولین کے لواحقین کو5،5لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ عدالت نیطاہر منہاس کو 5لاکھ روپے ہرجانہ مقتول کے ورثا کو ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ مجرم سعد عزیز کو ہرجانے کی عدم ادائیگی پر 6سال اور طاہر منہاس کو 3سال قید بھگتا ہوگی۔ پیر کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پاکستان نیوی کے کیپٹن اور پولیس اہلکار کے قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت کی جانب سے کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سانحہ صفورا میں سزائے موت پانے والے کالعدم تنظیم کے سعد عزیز عرف ٹن ٹن ودیگر پر جرم ثابت ہونے پر قتل کیدو مقدمات میں سعد عزیز عرف ٹن ٹن کو مجموعی طور پر 50سال قید کا حکم دے دیا۔ عدالت نے طاہر حسین عرف منہاس کو نیوی کے کیپٹن کے قتل میں 25سال قید کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سعد عزیز کو مقتولین کے لواحقین کو5،5لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ عدالت نیطاہر منہاس کو 5لاکھ روپے ہرجانہ مقتول کے ورثا کو ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ مجرم سعد عزیز کو ہرجانے کی عدم ادائیگی پر 6سال اور طاہر منہاس کو 3سال قید بھگتا ہوگی۔ استغاثہ کے مطابق ستمبر 2013میں کیپٹن ندیم احمد پر حملہ کیا گیا ، حملے میں ندیم احمد ہلاک اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر ٹیرسا احمد زخمی ہوگئی تھیں ،ملزمان نے 16اکتوبر 2014کو نیو کراچی میں پولیس اہلکار وقار حسن کو بھی فائرنگ کرکے قتل کیا ،ملزمان کو شاہراہ فیصل اور نیوکراچی تھانے میں درج مقدمات میں سزا سنائی گئی۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔