جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری پر امریکا بھر میں حملوں کا خطرہ

حکام کی شہریوں کو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے دن گھروں میں رہنے کی ہدایت

16 سے 20 جنوری تک سرکاری دفاتر اور عمارتوں پر حملے ہو سکتے ہیں،ایف بی آئی

ایف بی آئی کی وارننگ کے بعد کئی ریاستوں میں نیشنل گارڈز طلب، سیا سی رہنمائوں کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی

 واشنگٹن میں لاک ڈائون جیسی صورتحال ، متعدد سڑکیں اور شہر میں رکاوٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی ، ہوٹل بھی بند کردئیے گئے

کیپیٹل ہل کے اطراف کاروبار، میٹرو اسٹیشنز، پارکس اور دیگر اہم مقامات 15سے 21 جنروی تک بند کر دیئے گئے

کیپیٹل ہل کی عمارت میںبھی فوج تعینات ، اونچی باڑ لگاکر امریکی سپریم کورٹ اور لائبریری آف کانگریس سے الگ کردیا گیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک )نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے موقع پر واشنگٹن سمیت امریکا بھر میں حملوں اور ہنگامہ آرائی کا خطرہ ہے،حکام نے شہریوں کو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے دن گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے خبر دار کیا ہے کہ 16 سے 20 جنوری تک سرکاری دفاتر اور عمارتوں پر حملے ہو سکتے ہیں۔ایف بی آئی کے مطابق بائیڈن کے خلاف احتجاجا امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں سرکاری دفاتر اور عمارتوں پر بھی حملے کا خدشہ ہے۔ایف بی آئی کی وارننگ کے بعد کئی ریاستوں میں نیشنل گارڈز طلب کرلیے گئے ہیں اور امن و امان پر قابو پانے کے لیے 20 ہزار نیشنل گارڈز بھی تعینات ہیں جب کہ سیا سی رہنمائوں کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔دارالحکومت واشنگٹن میں لاک ڈائون جیسی صورتحال ہے جس کے باعث متعدد سڑکیں اور شہر میں رکاوٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی جب کہ واشنگٹن کے مرکزی علاقوں میں ہوٹل بھی بند کردئیے گئے ہیں۔کیپیٹل ہل کے اطراف کاروبار، میٹرو اسٹیشنز، پارکس اور دیگر اہم مقامات 15سے 21 جنروی تک بند کر دیئے گئے، کیپیٹل ہل کی عمارت کے اندر اور باہربھی فوج تعینات ہے، عمارت کو اونچی باڑ لگاکر امریکی سپریم کورٹ اور لائبریری آف کانگریس سے الگ کردیا گیاہے۔ حکام نے شہریوں کو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے دن گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔سکیورٹی حکام نے انتہائی دائیں بازو کے گروپ کی جانب سے حملوں کا خدشہ ظاہر کیاہے۔ مریکی میڈیا کا دعوی ہے کہ ہفتے کے روز ایک مسلح گروپ واشنگٹن آنا چا ہتا ہے۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر مائیک پینس نیفیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کا دورہ کیا جہاں انہیں حلف برداری کے دوران سکیورٹی پر بریفنگ دی گئی۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔