بھارت میں کورونا وبا کی صورتحال تشویش ناک ہے، ڈبلیو ایچ او

جنیوا (ویب ڈیسک)

عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بھارت میں زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اڈہانوم گیبریئس کا کہنا ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے بحران سے مقابلہ کرنے میں ان کا ادارہ بھی بھارت کی مدد کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک ڈبلیو ایچ او نے ہزاروں آکسیجن سلنڈرز، ماسکس اور دیگر طبی ساز و سامان بھارت کو مہیا کیا ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔جرمن ٹی وی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں کورونا وائرس کی وبا میں کمی کے کوئی آثار نہیں دکھ رہے اور ملک کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، کئی بھارتی ریاستوں میں اب بھی افسوس ناک حد تک نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں، متاثرین کی ہسپتالوں میں بھرتی اور اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس لحاظ سے بھارت کے تئیں گہری تشویش و فکر برقرار ہے۔ڈبلیو ایچ کو ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا، جو بھی اسٹیک ہولڈرز اس کے لیے بھارت کی مدد کر رہے ہیں ہم ان کے بھی شکر گزار ہیں۔  تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی جیسی صورت حال اب  صرف بھارت میں نہیں ہے بلکہ بعض دیگر ممالک میں بھی یہی صورت حال ہے اور وائرس کی یہ لہر گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہو رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بھارت میں گزشتہ اکتوبر میں پہلی بار پائے جانے والے کورونا وائرس ‘ویریئنٹ آف انٹریسٹ کے مقابلے میں موجودہ نئی قسم، جسے B.1.617 کا نام دیا گیا ہے، کو  ‘ویریئنٹ آف کنسرن یعنی تشویش ناک قسم  کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ادارے کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں صرف یہی ایک وائرس نہیں پایا جاتا بلکہ برطانوی ویریئنٹ بی۔1۔1۔7 بھی موجود ہے، جس کے تیزی سے پھیلنے کے پہلے ہی ثبوت مل چکے ہیں۔بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے تقریبا تین لاکھ 26 ہزار مزید متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دوران تقریبا تین ہزار آٹھ سو 90 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ بھارت میں گزشتہ تقریبا نصف ماہ سے مسلسل ساڑھے تین یا پھر چار لاکھ یومیہ نئے کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔اس لحاظ سے نئے کیسز کی تعداد میں کچھ کمی دکھ رہی ہے اور نئی دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں انفیکشن کی شرح میں بھی کمی کی اطلاعات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انفیکشن کا دائرہ اب دیہی علاقوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔اس کی وجہ سے مجموعی صورت حال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے اور اب بھی یومیہ تین لاکھ سے زیادہ نئے کیسز  اور تقریبا چار ہزار یومیہ اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین میں اس بات پر کافی گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ وبا اب گاں گاں پھیل رہی ہے اور چونکہ بیشتر دیہی علاقے طبی سہولیات سے محروم ہیں اس لیے وہاں یہ وبا زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہو سکتی ہے۔بھارت میں اس وبا سے متاثرین کی مجموعی تعداد دو کروڑ 44 لاکھ سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور اس وقت بھی تقریبا 37 لاکھ ایکٹیو کیسز ہیں جن کا ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ اب تک اس وبا سے دو لاکھ 66 ہزار 207  سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔یہ اعداد و شمار حکومت کے جاری کردہ ہیں جبکہ بعض آزاد ذرائع کے مطابق اصل انفیکشن اور ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک تو ملک میں ٹیسٹنگ کی سہولیات کم ہیں، دوسرے ہسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کا گھروں میں ہی انتقال ہو رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق بیشتر ہسپتال ایسے مریضوں کی موت کے سرٹیفکیٹ پر کورونا لکھنے سے بھی گریز کرتے ہیں، جس سے اصل تعداد کا معلوم ہونا بہت مشکل ہے۔ نجی ہسپتالوں میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کا بھی کوئی درست ریکارڈ نہیں رکھا جا رہا۔