اپوزیشن کے پاس کرپشن سے پاک کوئی شخص نہیں جسے قائد حزب اختلاف بناسکے، فواد چوہدری

حکومت کا چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس آج( بدھ کو ) لانے کا اعلان

اپوزیشن کے پاس کرپشن سے پاک کوئی شخص نہیں جسے قائد حزب اختلاف بناسکے، فواد چوہدری

ملک میں نئی مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، نادرا اور دیگر اداروں کی مدد لی جائے گی

انتخابی اصلاحات پراپوزیشن موثرجواب نہیں دے رہی، انہیں حکومت کی انتخابی اصلاحات پسند نہیں تو اپنی لے آئیں

حکومت نے فیصلہ کیا ہے 3 سے 13 ربیع الاول تک عشرہ رحمت اللعالمین ۖکے طور پر سرکاری سطح پر منایا جائے گا ،قیدیوں کی سزائوں میں کمی کا بھی فیصلہ کیا ہے

ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارے ڈاکٹرز بین الاقوامی معیار سے کم ہوں،این ایل ای کا نظام امریکا سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں کامیابی سے رائج ہے

ہمارے پاس بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، گیس کا کم استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی 7 روپے فی یونٹ سستی دیں گے،کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ

اسلام آباد( ویب  نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس مکمل ہو گیا جو آج( بدھ کو )لے آئیں گے،شہباز شریف سے چیئرمین نیب کے متعلق مشاورت نہیں کریں گے، اپوزیشن کے پاس کرپشن سے پاک کوئی شخص نہیں جسے قائد حزب اختلاف بناسکے ،انتخابی اصلاحات پراپوزیشن موثرجواب نہیں دے رہی، ملک میں نئی مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا،حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 3 ربیع الاول سے 13 ربیع الاول تک عشرہ رحمت اللعالمین ۖکے طور پر سرکاری سطح پر منایا جائے گا، گیس کا کم استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی 7 روپے فی یونٹ سستی دیں گے۔اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ اجلاس میں ملکی سیاسی، معاشی اور اقتصادی صورتحال پر غور ہوا، پنڈورا پیپرز کے معاملے پر بھی کابینہ کو بریفنگ دی گئی، پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، جن کے نام آئے ہیں ان کی تین کیٹیگریز بنائی گئی ہیں، ایک کیٹیگری وہ ہے جس نے آف شور کمپنی ظاہر کی ہے، دوسری کیٹیگری وہ ہے جس نے کمپنی بنائی اور منی لانڈرنگ کی، تیسری کیٹیگری وہ ہے جس نے آف شور کمپنی ظاہر ہی نہیں کی۔ پنڈورا پیپرز پر وزیراعظم انسپکشن سیل بنایا جائے گا۔

 جو جائزہ لے گا کہ کس کی آف شور کمپنی قانونی اور کس کی غیر قانونی ہے۔ وزیر اعظم انسپیکشن سیل ابتدائی طور پر ان سب کو اس کے مطابق الگ کرکے پھر ان کے بارے میں اسی طرح سے ادارے کارروائی کریں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس مکمل ہو گیا، یہ آرڈیننس آج ( بدھ کو )لے آئیں گے، اپوزیشن کے پاس ایسا کوئی قائد حزب اختلاف ہی نہیں ہے جو کرپشن سے پاک ہو، شہباز شریف خود نیب کے ملزم ہیں،شہبازشریف سے مشاورت کا مطلب چورسے پوچھنا ہے، ان سے پوچھ کر اگلا چیئرمین نیب نہیں لگایا جاسکتا، اپوزیشن کو اپنا لیڈر تبدیل کرنا چاہیے تاکہ چیئرمین نیب پر مشاورت کرسکیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مردم شماری کرانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا جس میں ٹیبلیٹس کا بھی استعمال کیا جائے گا ، نادرا اور دیگر اداروں کی مدد لی جائے گی۔فواد چودھری نے کہا کہ لوگوں کو جب گنا جاتا ہے تو ایک ہی وقت میں کرفیو لگاکر گنا جاتا ہے کہ کون کہاں ہے، لوگوں کو سوالنامہ بھیجا جاتا ہے کہ جہاں آپ ہیں وہاں 6 مہینے سے زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں اور کیا مزید 6 مہینے رہیں گے۔مردم شماری مکمل ہونے کے بعدنئی حلقوں کے لیے الیکشن کمیشن کو مطلع کیا جائے گا ۔فواد چوہدری نے بتایا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر بات چیت ہوئی اور کابینہ کو وزیر قانون نے بریفنگ دی کہ کوشش کی گئی ہے کہ اپوزیشن سے بات چیت کی جائے تاہم اپوزیشن سے موثر جواب نہیں آرہا۔ چاہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں لیکن انتخابی اصلاحات پراپوزیشن موثر جواب نہیں دے رہی،انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کی جانب بڑھیں گے اور دریں اثنا اپوزیشن سے بات چیت بھی جاری رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد انتخابات کو شفاف بنانا ہے، تمام لوگوں کا ماننا ہے کہ اس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تو ہمیں اس میں آگے بڑھنا چاہیے، اپوزیشن جلسوں میں رونے دھونے کے بجائے پارلیمنٹ میں کردار ادا کرے، انہیں حکومت کی انتخابی اصلاحات پسند نہیں تو اپنی لے آئیں۔نیشنل لائسنسنگ ایگزامینیشن(این ایل ای)کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارے ڈاکٹرز بین الاقوامی معیار سے کم ہوں، تعلیمی میدان میں ہماری حالات یہ ہوگئی ہے کہ کچھ ممالک نے پاکستان کی ڈگری ماننے سے ہی انکار کردیا ہے، عالمی معیار کو یقینی بنانے کیلئے میڈیکل طلبا کیلئے ٹیسٹ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، یہ نظام امریکا سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں کامیابی سے رائج ہے۔فواد چوہدری نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 3 ربیع الاول سے 13 ربیع الاول تک عشرہ رحمت اللعالمین کے طور پر سرکاری سطح پر منایا جائے گا اور اس حوالے سے تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ا نہوں نے کہاکہ عید میلاد النبی کے موقع پر حکومت نے قیدیوں کی سزائوں میں کمی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہہ عالمی منڈیوں میں اس وقت تیل، گیس کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوچکا ہے، ہمارے پاس بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بجلی کی فروخت میں اضافہ ہو اور گیس کی بچت ہو وفاقی کابینہ نے بجلی کا سیزنل پیکیج منظور کر لیا ہے، گیس کا کم استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی 7 روپے فی یونٹ سستی دیں گے، تین رکنی کمیٹی بجلی کی قیمتوں کا جائزہ لے گی۔

#/S