امریکی صدر بائیڈن نے فلسطینی عوام کا حق تسلیم کر لیا

فلسطینی عوام علیحدہ ریاست کا حق رکھتے ہیں، جوبائیڈن

 دو ریاستی حل سے ہماری سرزمین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو جائے گا،محمود عباس

اسرائیل اپنے آپ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھ سکتا، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کی امریکی صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس

بیت لحم (ویب نیوز)

امریکی صدر بائیڈن نے فلسطینی عوام کا حق تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ  مشرق وسطی میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق بیت لحم میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں امریکی صدر نے کہا فلسطینی عوام علیحدہ ریاست کا حق رکھتے ہیں۔امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی ٹرمپ کی پالیسی کی تائید کرتے ہوئے کہا موجودہ صورت حال میں دو ریاستی حل بہت دور دکھائی دیتا ہے لیکن ہم امن قائم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ دو ریاستی حل کا موقع آج موجود ہے، اس کا مستقبل کیا ہوگا ہم نہیں جانتے، دو ریاستی حل سے ہماری سرزمین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو جائے گا۔محمود عباس نے فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آبادکاریاں روکنے اور مشرقی بیت المقدس میں امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے کہا صدر بائیڈن کے ساتھ دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا، اور ان سے امن کے حصول سے متعلق بات ہوئی، بائیڈن کے دورے سے امن میں امریکی دل چسپی کا اظہار ہوتا ہے۔محمود عباس نے کہا کہ انھوں نے مشرقی یروشلم میں امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ غیر قانونی آبادکاریوں کو روکنے کے لیے امریکی کوششوں کے منتظر ہیں۔فلسطینی صدر نے کہا اسرائیل اپنے آپ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھ سکتا، دو ریاستی حل آج کے لیے اہم موقع ہے لیکن مستقبل میں کیا ہو، ہم نہیں جانتے،اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن جمعہ کے روز فلسطین کے تاریخی شہر اور حضرت عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت لحم پہنچے ہیں،بیت لحم آمد پر صدر بائیڈن کو خیر مقدم کے طور پر دو فلسطینی بچوں نے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ صدر محمود عباس کے دفترآمد سے قبل انہیں سلامی پیش کی گئی اس موقع پر فلسطینی بینڈ کے امریکی قومی ترانہ کی دھن بجائی تو بائیڈن نے اپنا دا ئیاں ہاتھ سینے پررکھ کر سلام کیا۔فلسطینی رہنما سے مختصر ملاقات سے پہلے وہ گذشتہ دو دنوں سے اسرائیلی رہنماوں سے نان سٹاپ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ جمعہ کی صبح انہوں نے مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کو علاج معالجے سہولت دینے والے شفاخانوں کے لیے ایک سو ملین ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔