15 ماہ سے جاری اسرائیلی حملے ، غزہ میں 18.5 ارب ڈالر کا نقصان
18 لاکھ آبادی شدید غذائی عدم تحفظ اور غربت میں زندگی گزار رہی
تباہی سے 50 ملین ٹن ملبہ جمع ہوگیا صفائی میں 21 سال لگ سکتے ہیں
غزہ (ویب نیوز)
غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان 15 ماہ سے جاری لڑائی جنگ اتوار کو بند ہوجائے گی ۔اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگ بندی اور حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے نئے معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اتوار سے اس پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ن 15 ماہ سے جاری لڑائی اور جنگ کے ساحلی فلسطینی علاقے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1200 اسرائیلی ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیاتھا۔ اسرائیل نے غزہ پر 15 ماہ سے جاری حملوں میں 46 ہزار 600 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں ۔ اسرائیلی حملوں میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے ، فلسطینی آبادی کا بیشتر حصہ بے گھر ہو گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے تجارتی اور ترقیاتی ادارے یو این سی ٹی اے ڈی نقصانات کا تخمینہ 18.5 ارب ڈالر ہے جو 2022 میں غزہ کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی سے تقریبا سات گنا زیادہ ہے۔ادارے نے اکتوبر میں متنبہ کیا تھا کہ جنگ بندی کے بعد بھی غزہ کی معیشت کو 2022 کی سطح پر بحال کرنے میں 350 سال لگیں گے اگر یہ 2007 سے نافذ معاشی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کے تحت زیادہ تیزی سے ترقی کرنے کے قابل نہیں ہوا۔ ادھر ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ 2024 کی پہلی سہ ماہی میں اس میں 86 فیصد کمی آئی ہے جو ‘ریکارڈ پر سب سے بڑا معاشی تنزلی’ ہے۔قحط کا اعلان کرنے کے ذمہ دار عالمی ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) کے مطابق تقریبا 18 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں جن میں تقریبا 133000 افراد تباہ کن غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریبا 100 فیصد آبادی جنگ سے پہلے کے 64 فیصد کے مقابلے میں اب غربت میں زندگی گزار رہی ہے اور بنیادی سامان کی قیمت میں تقریبا 250 فیصد اضافہ ہوا ہے۔قحط کا اعلان کرنے کے ذمہ دار عالمی ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن کی جانب سے ستمبر 2024 سے اگست 2025 تک کے حالات اور تجزیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ شدید غذائی قلت کی سطح جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہوگی۔موجودہ جنگ سے پہلے بھی غزہ کی تقریبا 80 فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت تھی۔بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے علاوہ، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں ہونے والے نقصانات کی تلافی میں کافی وقت لگے گا۔رپورٹ میں پانی اور صفائی ستھرائی کے نظام کو ‘تقریبا مکمل طور پر ناکارہ’ قرار دیا گیا ہے، کیمپوں اور پناہ گاہوں کے ارد گرد بڑھتے ہوئے کچرے اور تباہ شدہ سولر پینلز اور استعمال کیے جانے والے گولہ بارود کے کیمیکلز مٹی اور پانی کی فراہمی کو آلودہ کر سکتے ہیں۔ادارے کا اس بارے میں مزید کہنا ہے کہ تباہی سے 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ جمع ہوا ہے۔یو این ای پی کا کہنا ہے کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے ملبے اور دھماکہ خیز مواد کو صاف کرنے میں 21 سال کا طویل وقت لگ سکتا ہے۔غزہ صرف 41 کلومیٹر (25 میل) لمبا اور 10 کلومیٹر چوڑا اور بحیرہ روم سے گھرا ہوا ہے اور اسرائیل اور مصر کے ساتھ بند سرحدیں ہیں، تاہم اب یہاں کا بڑا حصہ رہائش کے قابل نہیں ہے۔جنگ سے پہلے غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر اس کے چار اہم شہروں جنوب میں رفح اور خان یونس، مرکز میں دیر البلاح اور غزہ شہر میں رہتے تھے جو 775000 افراد کا گھر تھا لیکن اب تقریبا پوری آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تباہ ہونے والی عمارتوں میں غزہ میں 90 فیصد سے زیادہ رہائشی یونٹ شامل
ہیں، جن میں سے000 160، تباہ ہوئے اور مزید 276000، کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔