فوجی عدالتیں مخصوص افراد کے لئے جبکہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ملک کے تمام لوگوں پر لاگو ہوتا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل
ہم چاہتے ہیں کہ پہلے دن دائرہ اختیار طے ہوجائے، ہم لوگوںکے حقوق کاتحفظ چاہتے ہیں،دوران سماعت ریمارکس
اسلام آباد(ویب نیوز)
سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ میں سویلنز کے ٹرائل کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ فوجی عدالتوں کے حوالہ سے قانون کے درست ہونے سے متعلق کوئی سوال نہیں ، سوال یہ ہے کہ کون اس قانون کے تحت آتا ہے اور کون نہیں آتا۔ سپریم کورٹ سے ایک شخص کو 34 سال بعد رہائی ملی، کسی کو 34 سال بعد انصاف ملنے کا کیا فائدہ، ہم چاہتے ہیں کہ پہلے دن دائرہ اختیار طے ہوجائے، ہم لوگوںکے حقوق کاتحفظ چاہتے ہیں۔ فوجی عدالتیں مخصوص افراد کے لئے جبکہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ملک کے تمام لوگوں پر لاگو ہوتا ہے۔ فوج کے حوالہ سے قانون 600عیسوی سے بناہوا ہے، فوج میں بغاوتوں کو چیک کرنے کے لئے قانون ہوتا تھا،فورس میں طاقت کوچیک کرنے اور کنٹرول کرنے کے لئے قانون بناسکتے ہیں، آرمی ایکٹ کے نفاذ کاکیا مقصد تھا۔ جبکہ جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ماضی میں جی ایچ کیو اور مہران ایئر بیس جیسے حساس مقامات پر بھی حملے ہوئے،21ویں فیصلے میں کہا گیا سن2002سے لیکر ترمیم تک 16ہزار دہشت گردی کے واقعات ہوئے ، ایسے واقعات میں حساس مقامات پر تعینات اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں، ایک واقعہ میں جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والے ار بوں روپے مالیت کے دو کورین طیارے تباہ ہوئے ،کیا کوئی پکڑا گیا،کیا 9 مئی کے واقعات کی شدت ان واقعات سے زیادہ تھی، ایسے تمام واقعات کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا یا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوا۔جبکہ جسٹس نعیم اخترافغان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم اگراس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ فیئر ٹرائل ہے توپھر 2-1-d-1-1کا کیا چیلنج رہ جائے گا، ہم دیکھیں گے کہ وکیل بنیادی حقوق کی بات کیسے لے کرچلتے ہیں۔ 9مئی واقعات کے حوالہ سے اس درخواست کے دائر کرنے کابیک گرائونڈ ہے،کسی نے فوجی عدالتوں میں کاروائی کوچیلنج نہیںکیا، جس عدالت نے سویلین کو فوجی تحویل میں دیا اس فیصلے کو آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ میں چیلنج کیوں نہیں کیا۔جبکہ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث احمد نے نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔بلوچستان حکومت، پنجاب حکومت، وزارت داخلہ اورشہداء فورم بلوچستان کے وکلاء نے وزارت دفاع کے وکیل کے دلائل اپنا لئے۔ جبکہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے اپنے جوابی دلائل کاآغاز کردیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میںجسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 7 رکنی آئینی بینچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلا ف دائر 39نظرثانی درخواستوں پرسماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث احمد سے استفسار کیا کہ آپ نے گزشتہ روز 9مئی کے ملزمان کے ٹرائل کاریکارڈ دیا کیا وہ تمام لفافے واپس مل گئے تھے۔ اس پر خواجہ حارث کاکہنا تھا کہ واپس مل گئی تھیں۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ آج میں اپنے دلائل ختم کرلونگا، آئین میں عدالتوں کا ذکر آرٹیکل 175 میں ہے، فوجی عدالتیں الگ قانون کے تحت بنتی ہیں جو تسلیم شدہ ہے۔جسٹس امین الدین خان کاکہنا تھا کہ فوجی عدالتیں ویلڈ عدالتیں ہیں تاہم یہ آئین کے آرٹیکل 175کے تحت نہیں آتیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 175 کے تحت بننے والی عدالتوں کے اختیارات وسیع ہوتے ہیں، مخصوص قانون کے تحت بننے والی عدالت کا دائرہ اختیار بھی محدود ہوتا ہے، فوجی عدالتوں کے تحت کوئی مخصوص گروپ آتا ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ گزشتہ روز میری بات سے کنفیوژن پیدا ہوئی، میڈیا کی فکر نہیں لیکن کچھ ریٹائرڈ ججز نے مجھے فون کرکے رابطہ کیا کہ آپ نے یہ کہا ہے، وضاحت کرنا چاہتا ہوں کل فیصلہ نہ ماننے کے حوالے سے میں نے 2ججز کی بات نہیں کی تھی میں نے عام افراد کا ذکر کیا تھا، کچھ میڈیا نمائندوں نے غلط فہمی پیدا کی۔جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ کہنا چاہ رہا تھا آٹھ ججز فیصلے کو دو افراد کسی محفل میںکہہ دیتے ہیں کہ ایسا ہے ویسا ہے، کچھ میڈیا کے ساتھیوں نے اسے غلط انداز میں رپورٹ کیا، 21ویں آئینی ترمیم اس لیے ہوئی کیونکہ ملک حالت جنگ میں تھا۔جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ آج تک جتنے فیصلے آئے ہیں ان میں فوجی عدالتوں کوتسلیم کیا گیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہناتھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جرم ہورہا ہے، پوری لیجسلیٹو لسٹ میں سب سے بڑی انٹری 1نمبر ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ اگر کسی کواکسائے بغیر جر م ہوتا ہے توہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت آتا ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ گٹھ جوڑ اور دفاع کی تشریح ہوجائے گی توسارا معاملہ حل ہوجائے گا، افواج پاکستان میں انسان ہوتے ہیں ، انسان کے ساتھ گٹھ جوڑ ہوگا۔خواجہ حارث کاکہنا تھا کہ 21ویں آئینی ترمیم اس لیے ہوئی کیونکہ ان واقعات میں جرائم آرمی ایکٹ میں نہیں آتے تھے۔جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ گٹھ جوڑ کا مطلب کیا ہوتا ہے، گٹھ جوڑ کا ایک مطلب تو گٹھ جوڑ، تعلق، سازش یا جاسوس کیساتھ ملوث ہونا ہوتا ہے، نگٹھ جوڑ کی دوسری تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ ایسا جرم جو فوج سے متعلقہ ہو۔خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ گٹھ جوڑ کا مطلب ورک آف ڈیفنس میں خلل ڈالنا ہے۔اس پر جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ ورک آف ڈیفنس کی تعریف کو تو کھینچ کر کہیں بھی لیکر جایا جا سکتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے ایک شخص کو 34 سال بعد رہائی ملی، کسی کو 34 سال بعد انصاف ملنے کا کیا فائدہ، ہم چاہتے ہیں کہ پہلے دن دائرہ اختیار طے ہوجائے، ہم لوگوںکے حقوق کاتحفظ چاہتے ہیں۔ خواجہ حارث کاکہنا تھا کہ 34سال بعد کسی کو رہائی دینا انصاف تو نہیں ہے۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی کاخواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی آپ سے ایک سوال پوچھا تھا، ماضی میں جی ایچ کیو اور مہران ایئر بیس جیسے حساس مقامات پر بھی حملے ہوئے،21ویںترمیم فیصلے میں کہا گیا سن2002سے لیکر ترمیم تک 16ہزار دہشت گردی کے واقعات ہوئے ، ایسے واقعات میں حساس مقامات پر تعینات اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں، ایک واقعہ میں جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والے ار بوں روپے مالیت کے دو کورین طیارے تباہ ہوئے ،کیا کوئی پکڑا گیا،کیا 9 مئی کے واقعات کی شدت ان واقعات سے زیادہ تھی، ایسے تمام واقعات کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا یا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوا، کیا فیلڈ کورٹ مارشل ہوا، ان میں لوگوں نے جانیں بھی دیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بعد فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا۔خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا تھا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ٹرائل 21ویں ترمیم سے قبل ہوا تھا۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمان کاکہنا تھا کہ آئینی ترمیم سے قبل جی ایچ کیوحملے کے ملزمان کافوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا۔ جسٹس سید حسن اظہررضوی کاکہنا تھا کہ کون حملہ کرنے آئے تھے ، کہاں سے جنریٹ ہوا تھا وہ باب بند ہوگیا۔خواجہ حارث کاکہنا تھا کہ مہران ایئربیس پر حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کردیے گئے تھے اس لیے وہاں ملٹری ٹرائل کی ضرورت ہی نہیں پڑی، فوجی امور میں مداخلت کی تعریف نہ آنے والے جرائم کیلئے ترمیم کی گئی تھی۔خواجہ حارث کاکہنا تھا کہ 21ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا تھا کہ بنیادی حقوق کی بنیاد پر دہشت گردوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کوچیلنج نہیں کیاجاسکتا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے حوالہ سے قانون کے درست ہونے سے متعلق کوئی سوال نہیں ، سوال یہ ہے کہ کون اس قانون کے تحت آتا ہے اور کون نہیں آتا۔ جسٹس محمد علی مظہر کاخواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کیاابھی تک آپ کو 2-1-d-1زبانی یادنہیں ہوا، اب تک تویہ آپ کوحفظ ہوجانا چاہیئے تھا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ فوجی عدالتیں مخصوص افراد کے لئے جبکہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ملک کے تمام لوگوں پر لاگو ہوتا ہے۔ خواجہ حارث کاکہنا تھا کہ اس میں فوجی اورسول دونوں افراد شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہوگئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کاخواجہ حارث کے دلائل اپناتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم جواب الجواب میں کچھ کہنے کااپنا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکیس میں سکندر بشیر مہمند کے بطور پرائیویٹ وکیل پیش ہونے پراعتراض کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر سکندر بشیر مہمند بطور وکیل پیش ہورہے ہیں تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد ایاز خان سواتی کیوں ہمارے سامنے موجود ہیں، بلوچستان حکومت کوبتانا ہوگا کہ وہ کیسے متا ثرہ فریق ہے، ہمیں مطمئن کرنا ہوگا۔ اس کے بعد عدالتی وفقہ کردیا گیا۔ جس کے بعد عدالت عظمی نے کیس کی سماعت میں ساڑھے 11 بجے تک وقفہ کردیا۔وقفہ کے بعد جسٹس جمال خان مندوخیل کاایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ اتنے ہی قابل ہیںجتناکوئی اوروکیل۔ سکندر بشیر مہمند کاکہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کودرخواستوں میں فریق بنایا گیا تھا۔ سکندر بشیر مہمند کاکہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں کاکیس سننے والے بینچ نے 11جولائی2024کو اپنے حکم میں حکومت کوپرائیویٹ کرنے کی اجازت دی تھی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ سکندر بشیر مہمند پورے صوبے کی نمائندگی کررہے ہیں جبکہ خواجہ حارث صرف وزارت دفاع کی نمائندگی کررہے ہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں کتنے ملازمین ہیں، پھر اسے بند کردیں، ایک ہی وکیل کرلیاکریں۔ جسٹس محمد علی علی مظہر کاکہنا تھا کہ پرائیویٹ وکیل کرنے کے حوالہ سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کافیصلہ دکھائیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کومخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چلیںآئندہ خیال رکھیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ خیبرپختونخوااور سندھ حکومتوں نے نظرثانی درخواستیں واپس لے لی تھیں،انہیں کوئی شکایت نہیں تھی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ اگر نظرثانی کااسکوپ بڑھا دیا جائے گاتوپھر درخواستوں کاسیلاب آجائے گا۔ بلوچستان حکومت اور پنجاب حکومت نے خواجہ حارث کے دلائل اپنا لئے، وزارت داخلہ اور وزارت قانون نے بھی خواجہ حارث کے دلائل اپنا لئے، شہدا فورم کے وکیل شمائل بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ شہدا فورم فریق نہیں تھی تو اپیل کیسے دائر کر دی؟ شمائل بٹ نے نے مئوقف اپنایا کہ شہری کی درخواست پر دو قوانین کالعدم قرار دیے گئے، میں شہداء کی لواحقین کی نمائندگی کر رہا ہوں۔شہداء فورم کے وکیل نے بھی خواجہ حارث کے دلائل اپنا لیے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کاایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامررحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کودلائل میں لیڈ کرنا چاہیئے تھا۔ اس کے بعد سابق چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے دلائل کاآغاز کیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاخواجہ احمد حسین کومخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ نے درخواست میں کیا وجوہات دی تھیں، کیا ایکٹ کوچیلنج کیا تھا۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا 2-d-1-2کو چیلنج کیا تھا، میں نے قانون کو بنیادی حقوق کی خلاف قراردے کرکالعدم قراردینے کی استدعا کی تھی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ 17رکنی بینچ کافیصلہ تھا کیاوکیل نے 9رکنی بینچ سے کہا تھا کہ 17رکنی بینچ کوکیس بھجوائے۔ جسٹس امین الدین خان کاخواجہ احمد حسین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 5رکنی بینچ کے پورے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں یا کچھ کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ اس پر خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ میں آئین کے آرٹیکل 175-3کے حوالہ سے دلائل دوں گا۔ جسٹس محمد علی مظہر کاخواجہ احمد حسین کومخاطف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ نے نیٹ پریکٹس شروع کردی ہے، کل صییح دلائل دیں گے۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ میں اوپننگ بیٹسمین ہوں اور اوپننگ بیٹسمین کاکام رک کرکھیلنا ہے اور موقع ملنے پر تیز کھیلنا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ پھر ہارڈ ہٹنگ شروع کریں گے۔ جسٹس امین الدین خان کاکہنا تھا کہ مین درخواست کی7کاپیاں بینچ کو فراہم کردیں۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ ہم نے سپریم کورٹ کو مطمئن کیا کہ 2-1-d-1-2بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، یہ نہ صرف آئین کے آرٹیکل 8-5بلکہ 10-Aکی بھی خلاف ورزی ہے، فیئر ٹرائل اورڈیو پراسیس کی بھی خلاف ورزی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی میرے دلائل سے اختلاف نہیںکیا۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ جسٹس منیب اخترنے جسٹس عائشہ اے ملک کے فیصلے توثیق کی، ہماراکیس کبھی یہ تھا ہی نہیں کہ9 مئی واقعات کے ملزمان کو چھوڑ دیں ،ہمارا کیس صرف اس حد تک ہے کہ سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوگا، سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت کا سول عدالتوں کی بجائے فوجی عدالتوں پر اعتماد کیوں ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ یہ اعتراض تو دوسری طرف سے بھی آ سکتا ہے۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ ہمیں کبھی کورٹ مارشل کرنے والے افسران پرا بھی کوئی اعتراض نہیں رہا۔جسٹس نعیم اخترافغان کاہنا تھا کہ 9مئی واقعات کے حوالہ سے اس درخواست کے دائر کرنے کابیک گرائونڈ ہے،کسی نے فوجی عدالتوں میں کاروائی کوچیلنج نہیںکیا، جس عدالت نے سویلین کو فوجی تحویل میں دیا اس فیصلے کو آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ میں چیلنج کیوں نہیں کیا۔خواجہ احمد حسین کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 199 کا رٹ اختیار حق نہیں ہے بلکہ یہ عدالت کی صوابدید ہوتی ہے،میری درخواست قانون کے حوالہ سے تھی کہ یہ آئین کے خلاف ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی کاکہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب آئین ہمارے پیچھے ہو جو سب سے سپریم قانون ہے، سویلین ملزمان اور مسلح افواج کے ملزمان میں فرق کیا ہے، کیا 9مئی کے ملزمان کوبھول جائیں۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ بنیادی حقوق واپس نہیں لیئے جاسکتے۔ جسٹس مسرت ہلالی کاکہنا تھا کہ کیا مسلح افواج اور سویلینز کے ملزم ہونے میں کوئی فرق ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں سویلین اور تربت میں رینجرز کے ہاتھوں سویلین کا قتل تو ٹرائل سول عدالتوں میں چلا۔خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ 2-1-d-1-2کے تحت بنیاد ی حقوق ختم ہوجاتے ہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ پہلا چارج عائد کرنے کے بعد تحقیقات میں کہہ دیا جائے کہ ملزم آرمی ایکٹ کے نیچے نہیں آتا۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا 9مئی ملزمان کی تحویل کس نے آرمی کے حوالہ کی۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 8-3کے تحت مسلح افواج کے اہلکاروں نے کچھ حقوق خود چھوڑے ہیں جوعام شہریوں نے نہیں چھوڑے۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ جب آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے تو بنیادی حقوق معطل ہو جاتے ہیں، یہاں اس کیس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پر بھی بات ہوئی، قانون بنا کر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ہائیکورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا، عام شہریوں کو یہ حق حاصل نہیں، وفاق کی جانب سے بار بار کہا گیا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں وجوہات دی جائیں گی لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ وجوہات ہوتی ہی نہیں، ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے فیلڈ کورٹ مارشل، یہاں لفظ فیلڈ ہے۔خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ چار قسم کافوجی ٹرائل ہوتا ہے ایک جنرل، دوسراڈسٹرکٹ، تیسرا سمری اور چوتھا فیلڈ کورٹ مارشل۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہناتھا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں9مئی ملزمان کا فیلڈ میں لے جا کر کورٹ مارشل کیا جائے۔ جسٹس مسرت ہلالی کاکہنا تھا کہ کیا 9مئی واقعات کے ملزمان کووکیل کاحق دیا گیا تھا کہ نہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 8-3کے تحت مخصوص طبقہ کے لوگوں کے لئے قانون بناسکتے ہیں، اگر قانون ہے توکس حد تک صییح ہے ، اس کامقصد کیا ہے، یہ ایکٹ آج نہیں بنا ساری دنیا میں یہ ایکٹ موجود ہے، 2میں ان لوگوں کوشامل کیا گیا جو فوج کے جوانوں کو ورغلاتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں، اورحکومت کی عدم اطاعت پراکساتے ہیں،یا کہیں پورے کاپورا ایکٹ غلط ہے اوراگرٹھیک ہے تو کس حد تک ٹھیک ہے۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ dغلط ہے گٹھ جوڑ کالفظ آئین یا قانون میں نہیں بلکہ ایک عدالتی فیصلے میں آیا ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 8(3) کی بنیاد پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی، پارلیمنٹ قانون بناسکتی ہے لیکن بنیادی حقوق کے مطابق ہونا چاہیئے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ ایک سویلین کسی اہلکار کوذمہ داری سے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا آرمی اہلکار کوسزادی جائے گی اور دوسرے کوسزانہیں دی جائے گی۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ ہم نہیں کہہ رہے کہ لوگوں کاٹرائل نہ کریں اور چھوڑ دیں بلکہ ہم کہہ رہے ہیں کہ اگر ثبوت ہیں تو سویلین عدالتوں میں ٹرائل کرکے سزادیں، آپ بنیادی حقوق کے حوالہ سے آنکھیں بند نہیں کرسکتے، ریاست کواجازت نہیں کہ لوگوں کے بنیادی حقوق واپس لے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ اگر نہیں آتے تواس کا امتیاز کریں، کیا پارلیمنٹ مسلح افواج کے اہلکاروں کے حوالہ قانون بناسکتی ہے، جواب ہاں میں ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ سویلینز تک محدود رکھیں، کیسے اس کوکالعدم قراردیں گے۔ خواجہ احمد حسین کاکہنا تھا کہ میں یہ نہیں مانگ رہا کہ ساراآرمی ایکٹ کالعدم قراردیں ، میں نے آرمی ایکٹ چیلنج نہیں کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ یہ کہیں سویلین نہیں آتے۔ جسٹس مسرت ہلالی کاخواجہ احمد حسین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کون سے سویلین متاثر تھے جنہوں نے آپ کو وکیل کیا۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی کاکہنا تھا کہ ایک سابق آرمی چیف جو صدر بھی تھے پر جھنڈا چیچی کے قریب حملہ ہوا اس کاٹرائل کہاں پر ہوا۔ اس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمان کاکہنا تھا کہ پرویز مشرت پر2005میں حملہ ہواتھااوراس کے ملزمان کافوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا تھا۔ اس پر جسٹس مسرت ہلالی کاکہنا تھا کہ واقعہ کے تھوڑی دیر بعد میں وہاں سے گزری تھی۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہنا تھا کہ ہم اگراس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ فیئر ٹرائل ہے توپھر 2-1-d-1-1کا کیا چیلنج رہ جائے گا، ہم دیکھیں گے کہ وکیل بنیادی حقوق کی بات کیسے لے کرچلتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ستفسار کیا کہ آپ کی اگر یہ دلیل ہے کہ ایف بی علی کیس فوج سے متعلق تھا تو عدالتی فیصلے میں قانون کی شقوں کو کالعدم قرار کیوں دیا گیا ہے، آپ خود مان رہے ہیں کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن2-1-d مسلح افواج سے متعلق ہے، کیا عدالتی فیصلے میں ان شقوں کو کالعدم قرار غلط تھا؟جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ فوج کے حوالہ سے قانون 600عیسوی سے بناہوا ہے، فوج میں بغاوتوں کو چیک کرنے کے لئے قانون ہوتا تھا،فورس میں طاقت کوچیک کرنے اور کنٹرول کرنے کے لئے قانون بناسکتے ہیں، آرمی ایکٹ کے نفاذ کاکیا مقصد تھا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج (جمعہ)تک ملتوی کردی۔ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین آج (جمعہ)کو بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔