امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں، امریکا پر اعتماد نہیں، امریکا ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا، موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ امریکا کا ایرانی تجارتی جہاز پر قبضہ، ا ’بحری قزاقی‘ کا جواب دینے کا اعلان
لیڈ (ایران امریکا مذاکرات) انکار پھر رضامندی؟ منگل کو ملاقات کا امکان
پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کر دیں۔ مذاکرات کو حتمی شکل دے دی گئی، دونوں ممالک پاکستان آنے پر آمادہ ہیں، ذرائع کے مطابق پاکستان نے فریقین سے رابطہ کر لیا، امریکی وفد آج پاکستان پہنچ جائے گا، ایرانی وفد کی کل پاکستان آمد متوقع ہے۔
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ جہاز خلیج عمان میں روکا گیا اور ایرانی عملے نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا جس پر ہمارے نیوی جہاز نے انجن روم میں بڑا سوراخ کر دیا۔ امریکی صدر کے مطابق یہ جہاز امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے میرینز جہاز پر موجود سامان کی تفتیش کر رہے ہیں۔
تہران: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا مگر امریکا پر اعتماد نہیں، مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا تاحال کوئی ارادہ نہیں، وفد پاکستان نہیں جائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران امریکا پر یقین نہیں کرسکتا، ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا، امریکا نے ثابت کر دیا وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں، امریکا نے جارحانہ اقدام کیے، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں، ہمیں اپنی صلاحیتوں پر پورا یقین ہے، امریکا پر اعتماد نہیں، امریکا ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا، موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکا ایران سفارتی عمل میں اس وقت پاکستان واحد ثالث ہے، پاکستان میں پیش کی گئی 10 نکاتی تجویز پر پہلے ہی مذاکرات ہو چکے ہیں، آبنائے ہرمز امریکا اور اسرائیلی حملوں سے پہلے مکمل طور پر محفوظ تھی، امریکا نے بحری ناکہ بندی عائد کر کے ایرانی جہاز پر حملہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے مذاکرات اور جنگ بندی دونوں کی دو مرتبہ خلاف ورزی کی ہے، ایرانی جہاز پر حملہ جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، امریکا نے ایران پر حملے کیے، شہریوں کو نشانہ بنایا اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے آغاز سے ہی اس کی خلاف ورزی کی جس کی اطلاع پاکستان کو دی گئی، امریکا کی بحری ناکہ بندی جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے، امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کے نتائج بھی بہتر نہیں ہونگے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا ایران پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے، امریکا بجائے مثبت کردار ادا کرنے کے الزام تراشی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے، امریکا سے سچ بولنے کی توقع کبھی بھی نہیں کی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہمیں معلوم ہے لبنان میں کیا ہو رہا ہے، امریکا کی غلطیوں کا تسلسل خطے کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، امریکا میڈیا کے ذریعے متضاد بیانات دے رہا ہے جبکہ ہم نے ایک ہی موقف رکھا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا کے خلاف کارروائی جہاز پر موجود عملے اور خاندانوں کی وجہ سے نہیں کر رہے، جہاز پر موجود عملے اور خاندانوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے، یہ موضوع ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے، لبنان میں جنگ بندی کی بنیاد پر ہی ہم نے آبنائے ہرمز کو کھولا تھا، لبنان جنگ بند ی سے متعلق ہم نے امریکی بددیانتی کے کئی اقدامات دیکھے، بدیانتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جنگ بندی کیلئے سنجیدہ نہیں ہے
اس سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم غیر ضروری مطالبات کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے۔
قطری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران کی مذاکراتی حکمت عملی مکمل قومی مفادات اور سکیورٹی تقاضوں کے تحت ہوتی ہے، ایران قومی مفادات کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔
ابراہیم عزیزی نے یہ بھی کہا کہ ملکی مفادات اور سلامتی محفوظ بنانے کے لیے ایران کو جو بھی کرنا پڑے گا وہ کرے گا، ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ہم موجودہ مذاکرات کو میدان جنگ کا تسلسل سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے نتائج میدان جنگ میں حاصل کامیابیاں برقرار رکھنے میں مددگار ہوں تو یہ عمل ایران کے لیے ایک موقع ہوسکتا ہے، امریکا دباؤ ڈالنے والی پالیسی کے تحت غیرضروری مطالبات کرے گا تو ایسے مذاکرات قابل قبول نہیں ہوں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی قیمت پر بات چیت کی جائے، مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے فریق کے ہر طریقہ کار کو قبول کرلیا جائے، ایران نے واضح ریڈ لائنز مقرر کر رکھی ہیں جن کا احترام ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکراتی ٹیم بھیجنا مثبت اشارے ملنے یا نہ ملنے پر منحصر ہے، ہم نے کبھی مذاکرات کے اصول سے گریز نہیں کیا، ممکن ہے آج یا کل مزید جائزے کے بعد مذاکرات کے امکان پر غور کریں، مذاکرات کیلئے ضروری ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم ایران کے پیغامات کا مثبت اشارہ دیں۔
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تاہم بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ہر ممکن اقدام کے لیے تیار بھی ہے۔
سربراہ مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو اپنے مخالفین پر اعتماد نہیں ہے اور کسی بھی وقت صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، ہم دشمن پر بھروسہ نہیں کرتے، جنگ کسی بھی لمحے شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق قالیباف نے واضح کیا کہ ایران ایک طرف سفارتی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اہم ہیں، لیکن قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا بھی ناگزیر ہے، ان کے بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی یہ پالیسی ’مذاکرات بھی، تیاری بھی‘ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تہران سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، مگر ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے خود کو تیار بھی کر رہا ہے
مذاکرات کو حتمی شکل دے دی گئی، دونوں ممالک پاکستان آنے پر آمادہ ہیں، ذرائع کے مطابق پاکستان نے فریقین سے رابطہ کر لیا، امریکی وفد آج پاکستان پہنچ جائے گا، ایرانی وفد کی کل پاکستان آمد متوقع ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا مگر امریکا پر اعتماد نہیں، مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا تاحال کوئی ارادہ نہیں، وفد پاکستان نہیں جائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران امریکا پر یقین نہیں کرسکتا، ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا، امریکا نے ثابت کر دیا وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے جارحانہ اقدام کیے، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں، ہمیں اپنی صلاحیتوں پر پورا یقین ہے، امریکا پر اعتماد نہیں، امریکا ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا، موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے، لبنان میں جنگ بندی کی بنیاد پر ہی ہم نے آبنائے ہرمز کو کھولا تھا، لبنان جنگ بند ی سے متعلق ہم نے امریکی بددیانتی کے کئی اقدامات دیکھے، بددیانتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جنگ بندی کیلئے سنجیدہ نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایران کے پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک لیا گیا ہے، توسکا نامی جہاز نے رکنے کی وارننگ پر عمل نہیں کیا جس کے بعد امریکی بحریہ نے اسے تحویل میں لے لیا۔
ایران نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسلح بحری ڈکیتی ہے اور اس کا جواب جلد دیا جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بحری جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے بعد اس واقعے کی ویڈیو جاری کی جس میں ایک بحری جہاز کو ایرانی کارگو شپ کو روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جاری کردہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کارگو جہاز کو پیغامات بھیجنے کے بعد اس کی سمت میں فائرنگ کی جا رہی ہے۔
ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بحری جہاز پر فائرنگ اور اسے تحویل میں لینا جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس اقدام کا جواب جلد دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی کی بلکہ سمندری راہزنی کا ارتکاب بھی کیا۔
اُن کا مزید کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایران کے ایک تجارتی جہاز پر فائرنگ کی، اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنایا اور اپنے مسلح میرینز کو جہاز پر اتار کر اسے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔
قبل ازیں ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ جہاز خلیج عمان میں روکا گیا اور ایرانی عملے نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا جس پر ہمارے نیوی جہاز نے انجن روم میں بڑا سوراخ کر دیا۔
امریکی صدر کے مطابق یہ جہاز امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے کیونکہ اس کا پچھلا ریکارڈ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور اب امریکی میرینز جہاز پر موجود سامان کی تفتیش کر رہے ہیں۔







