اختلافات کی خبریں مسترد، ایرانی قیادت کے اندر مثالی اتحاد ہے۔ امریکی قیادت کو وعدہ خلافی، دھونس اور فریب کاری بند کرنی چاہئے. وعدہ خلافی، ناکہ بندی اور دھمکیاں حقیقی مذاکرات میں راہ میں رکاوٹ ہیں۔مسعود پزشکیان
فوج ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے، جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ.. ایران کے ساتھ غیر معینہ مدت تک جنگ بندی نہیں کی گئی، چند دن دیئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس ترجمان کیرولین لیوٹ
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ چھوٹی ہو یا بڑی ہر کشتی کو نشانہ بنایا جائے۔ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی کو تباہ کر دیا جائے، کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے کسی عجلت میں نہیں اور وہ ایک بہترین معاہدہ چاہتے ہیں۔
قبل ازیں ٹرمپ نے کہا کہ فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا، انہوں نے اس پیش رفت کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر جمعہ کو ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔
لیویٹ نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو غلط قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی وہ بحری ناکہ بندی سے مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں، جنہیں انہوں نے عوامی سطح پر بے معنی باتیں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔

تہران: (ما نیٹرنگ ڈیسک)
ایران کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ انصاف، وقار اور دانش مندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
ترجمان ایران صدارتی دفتر مہدی طباطبائی نے امریکی صدر کا نام لیے بغیر کہا کہ دشمن سیاسی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جھوٹ گھڑنے کے بجائے، انہیں اپنی وعدہ خلافی، دھونس اور فریب کاری بند کرنی چاہئے، انصاف، وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ وعدہ خلافی، ناکہ بندی اور دھمکیاں حقیقی مذاکرات میں راہ میں رکاوٹ ہیں۔
ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے مذاکرات اور معاہدے کا خیر مقدم کیا اور کرتا رہے گا، دنیا کو آپ کی منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور عمل میں تضاد نظر آ رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہو سکتا ہے۔
امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے، جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا۔
دوسری طرف وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ غیر معینہ مدت تک جنگ بندی نہیں کی گئی، ایران کو چند متفقہ تجاویز کے لیے چند دن دیئے ہیں۔



.jpg)


