ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رکھا جائے،  شپنگ کو روکا جائے، بمباری شروع کرنا یا تنازع سے باہر نکلنا ناکہ بندی برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

لیڈ (ایران کے خلاف) طویل المدتی بحری ناکہ بندی کی ہدایت (35 اداروں اورایرانی شخصیات پر پابندیاں )

امریکی ناکہ بندی سے ایران کی سمندری تجارت متاثر ہوئی، امریکی افواج ایران آنے اور جانے والی تجارت کو روک رہی ہیں، چاہ بہار بندرگاہ پر جہازوں کی بڑی تعداد جمع ہے، چاہ بہار پر 5 جہاز ہوتے تھے، اب یہ تعداد بڑھ کر 20 سے زائد ہوگئی۔ ترجمان امریکی سینٹ کام

اقوام متحدہ امریکا تحویل میں لئے گیے جہاز چھوڑنے کا حکم دے، امریکی اقدام کی علاقائی اور عالمی سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، واشنگٹن کو ان اقدامات کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔  ایرانی جہازوں کو روکنا اور اثاثے ضبط کرناسمندری قزاقی قرار دے دیا۔ ایرانکا  یواین سیکرٹری جنرل کو خط

امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف طویل المدتی بحری ناکہ بندی کی ہدایت
whatsapp sharing button

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رکھا جائے، ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی شپنگ کو روکا جائے، بمباری شروع کرنا یا تنازع سے باہر نکلنا ناکہ بندی برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ بادشاہ چالس متفق ہیں کہ ایران جوہری بم نہیں رکھ سکتا، امریکا نے ایران کو فوجی شکست دی ہے، برطانیہ سے تاریخی رشتہ اجاگر کرنا فطری ہے، سیاسی علیحدگی کے باوجود امریکا اور برطانیہ کی دوستی برقرار ہے۔

ترجمان امریکی سینٹ کام کے مطابق امریکی ناکہ بندی سے ایران کی سمندری تجارت متاثر ہوئی، امریکی افواج ایران آنے اور جانے والی تجارت کو روک رہی ہیں، چاہ بہار بندرگاہ پر جہازوں کی بڑی تعداد جمع ہے، چاہ بہار پر 5 جہاز ہوتے تھے، اب یہ تعداد بڑھ کر 20 سے زائد ہوگئی۔

دوسری جانب ایران نے یواین سیکرٹری جنرل کو خط میں امریکی ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی جہازوں کو روکنا اور اثاثے ضبط کرناسمندری قزاقی قرار دے دیا۔

ایرانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ امریکا تحویل میں لئے گیے جہاز چھوڑنے کا حکم دے، امریکی اقدام کی علاقائی اور عالمی سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، واشنگٹن کو ان اقدامات کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران نے خود کہا ہے کہ ان کا ملک اندر سے زوال پذیر ہے۔

امریکی صدر کے بقول ایران نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھول دے کیونکہ وہ قیادت کی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے خیال میں ایران اس صورتحال سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی بین الاقوامی ذریعے نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔

امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں
دوسرا انٹرو
واشنگٹن: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) امریکا نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے 35 اداروں اور شخصیات کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایران کے بینکاری نظام اور تیل کی تجارت کو سہارا دے رہا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نامزد ادارے اور افراد اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی تیل کی ترسیل اور مالی لین دین میں ملوث رہے جس کے ذریعے پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی گئی۔

محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے او ایف اے سی نے خبردار کیا ہے کہ ایسے بینک اور مالیاتی ادارے بھی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں جو ان کمپنیوں سے کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں اور جو آبنائے ہرمز کے راستے ادائیگیوں کے نظام میں شامل ہیں۔

امریکی حکام نے چین کے صوبے شینڈونگ میں قائم آئل ریفائنریز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود متعدد نجی کمپنیاں ایرانی تیل کی درآمد اور ریفائننگ میں کردار ادا کر رہی ہیں۔