سپر (ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ /بڑا سیاسی دھچکا) ایران کی ناکہ بندی ختم اور فوجی انخلا کی قرارداد منظور
ایران پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف امریکی سینیٹ نے ایران کے گرد قائم ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی فوجی دستوں کو واپس بلانے کے حق میں قرارداد منظور کرلی۔ ووٹنگ کے دوران قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ آئے۔ اب یہ قرارداد امریکی ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ کے لیے پیش ہو گی۔
سینیٹ کا یہ فیصلہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف غیر مقبول جنگی حکمتِ عملی سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے، ماہرین کے مطابق اس جنگی صورتحال کے باعث نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت کو بھی تقریباً نصف ٹریلین ڈالر کا شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

عالمی سیاست اور معیشت پر اثرانداز ہونے والے اس فیصلے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں اس حساس معاملے پر ہونے والی ووٹنگ کے دوران قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ آئے۔
میڈیا رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ سینیٹ کا یہ فیصلہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف غیر مقبول جنگی حکمتِ عملی سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے، ماہرین کے مطابق اس جنگی صورتحال کے باعث نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت کو بھی تقریباً نصف ٹریلین ڈالر کا شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد اب یہ قرارداد اسی ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) میں ووٹنگ کے لیے پیش کی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایوانِ نمائندگان سے بھی اس قرارداد کی منظوری کے قوی امکانات ہیں، کیونکہ اس سے قبل ایران کے معاملے پر ہونے والی ووٹنگ ٹائی (برابر) ہو گئی تھی، جس کی وجہ قرارداد کے حامی چند اراکین کی طبی وجوہات کے باعث غیر حاضری تھی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کے اراکین کی ایک بڑی تعداد کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی اقدامات کے لیے کانگریس کی باقاعدہ منظوری کو لازمی بنایا جائے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا ایران جنگ تیزی سے ختم کرنے کا اعلان

واشنگٹن: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ تیزی سے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایران پر حملہ مؤخر کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت جنگی منصوبوں پر اہم اجلاس ہوا ہے جس میں مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی، اجلاس میں امریکی نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور دیگر فوجی حکام شریک ہوئے، اجلاس میں ایران جنگ کی صورتحال سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا، مختلف فوجی آپریشنز اور سفارتی کوششوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے، جس کے بعد ہم یہ جنگ تیزی سے ختم کر دیں گے، ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے نہیں دیں گے، ایران کی نیوی، فضائیہ، فوج اور قیادت ختم کر دی گئی ہے۔
اس پہلے وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیری سائٹ کے دورے پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے، وہ اسرائیل کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے، اس لیے ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وقت محدود ہے، ایران کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ شاید ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑے، ایران پر 2 سے 3 روز، شاید جمعے یا ہفتے کو یا پھر اگلے ہفتے کے شروع میں حملہ کرسکتے ہیں۔





