لیڈ ( گلگت بلتستان انتخابات ) سکیورٹی ہائی الرٹ، پولنگ مکمل
،ووٹنگ صبح شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری ری۔ انتخابات میں 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ 24 اسمبلی نشستوں کے لیے 403 امیدوار میدان میں ہیں شام 5 بجے تک قطاروں میں موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔
انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے 15 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے تھے، ۔ انتخابات میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی، الیکشن میں خواتین کا ٹرن آؤٹ زیادہ ہے، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان بھر میں انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور عوام نے ووٹنگ کے عمل میں بھرپور حصہ لیا۔ چیف الیکشن کمشنر
گلگت بلتستان ( بیورو چیف )
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر عام انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہو ئی ہے، جس کے ساتھ ہی خطے میں ایک اہم اور سخت انتخابی مقابلے کا آغاز ہوا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کیلئے پولنگ کا مقررہ ختم ہوگیا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ووٹنگ کا عمل صبح بجے سے شروع ہو کر بغیر کسے وقفے کئے شام 5 بجے تک جاری رہا ۔ ذرائع نے بتایا کہ 24 مجموعی طور پر حلقوں میں ووٹنگ کا عمل اختتام پذیر ہوا، ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ شروع کردیا گیا، پولنگ کا وقت ختم ہوتے ہی پولنگ سٹیشنز کے دروازے بند کر دیے گئے۔ دوسری جانب شام 5 بجے تک قطاروں میں موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔
اِسی طرح گلگت بلتستان کے 1391 پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا، حساس اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی ہائی الرٹ برقرار رہی۔ ووٹنگ صبح شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری ری۔ انتخابات میں 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ 24 اسمبلی نشستوں کے لیے 403 امیدوار میدان میں ہیں
علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے 23، مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار میدان میں ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے 9، اسلامی تحریک پاکستان کے 10، مجلس وحدت المسلمین کے 7، استحکام پاکستان پارٹی کے 15 امیدوار ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان نظریاتی پارٹی کے 10 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
انتخابی معرکے میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ انتخابات کے پرامن انعقاد اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے پورے خطے میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیا ہے جس میں انتخابی امیدوار ریاض اکبر کی نااہلی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ کمیشن کے مطابق یہ دستاویز الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نہیں کی گئی اور اس کی کوئی قانونی یا انتظامی حیثیت نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جعلی نوٹیفکیشن میں صوبائی الیکشن کمشنر کے نام اور دستخط کا غیر قانونی استعمال کیا گیا ہے، جو قانون کے تحت قابلِ سزا جرم ہنے..

گلگت: (ما نیٹرنگ ڈیسک ) چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز کا کہنا ہے کہ انتخابات میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی، الیکشن میں خواتین کا ٹرن آؤٹ زیادہ ہے،
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ گلگت بلتستان بھر میں انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور عوام نے ووٹنگ کے عمل میں بھرپور حصہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے 15 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جس کے باعث ووٹرز نے پُرامن ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق گلگت بلتستان کی تاریخ میں یہ سب سے پرامن الیکشن رہا، جبکہ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔
راجہ شہباز خان نے کہا کہ انہوں نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کرکے انتخابی عمل کا جائزہ لیا اور انتخابی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت پر عوام کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک انتخابی دھاندلی یا کسی قسم کی انتخابی بے ضابطگی کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔





