بینک فراڈ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا بینک مینیجر کی گاڑیاں نابینا خاتون کے حوالے کرنے کا حکم

اسلام آباد ( ویب  نیوز  )

بینک مینیجر کے فراڈ کا شکار ہونے والی ایک نابینا خاتون کو عدالت کی مداخلت کے بعد 1 کروڑ 92 لاکھ روپے کی رقم واپس مل گئی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے بینک مینیجر کی دو گاڑیاں خاتون کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا، ARY نیوز نے رپورٹ کیا۔

رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے بینک مینیجر رمیز جاوید کی دو گاڑیاں نابینا خاتون کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی تاکہ باقی ماندہ رقم کی وصولی ممکن بنائی جا سکے۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کو حکم دیا کہ وہ دونوں گاڑیاں برآمد کرکے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

کیس کی سماعت جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل بینچ نے کی۔ خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں پہلے ہی 1 کروڑ 59 لاکھ روپے واپس مل چکے ہیں، جبکہ گزشتہ روز 33 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے چیک بھی ان کے حوالے کیے گئے۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ہفتے کے اندر دونوں گاڑیاں برآمد کرکے نابینا خاتون کے حوالے کر دی جائیں گی۔

بینک مینیجر رمیز جاوید کروڑوں روپے کے فراڈ کیس میں سزا یافتہ ہیں اور اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان پر نابینا خاتون کے 2 کروڑ روپے سے زائد کی رقم خردبرد کرنے کا الزام ثابت ہو چکا ہے۔

خاتون کے وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر بینک مینیجر کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے FIA سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 7 جولائی تک ملتوی کر دی۔