(سٹیٹ بینک ) شرح سود 11.5 فیصد برقرار (مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد )

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے پیر کے روز اپنی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافے اور معاشی چیلنجز کے باوجود موجودہ مانیٹری پالیسی مناسب ہے۔ مہنگائی کی شرح مارچ میں 7.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں 10.9 فیصد اور مئی میں 11.7 فیصد ہوگئی۔ مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ، اور گندم و دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ شامل ہیں۔ اگرچہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں حالیہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت کے بعد کچھ کمی آئی ہے، تاہم یہ اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے بلند ہیں۔ اقتصادی سرگرمیوں میں سست روی کے آثار بھی سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ بلند قیمتیں، کفایت شعاری کے اقدامات اور غیر یقینی صورتحال بتائی گئی ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے مطابق پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال میں بنیادی طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ کمیٹی نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی دو ہندسوں میں رہنے کا امکان ہے، تاہم درمیانی مدت میں یہ بتدریج کم ہو کر 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں آنے کی توقع ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق مالی سال 2026 میں معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 3.2 فیصد تھی۔ یہ بہتری بنیادی طور پر خدمات اور صنعتی شعبوں کی کارکردگی کے باعث ممکن ہوئی۔ بڑے پیمانے کی صنعت (LSM) نے جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران 6.5 فیصد ترقی کی۔
اسٹیٹ بینک نے بیرونی شعبے میں بہتری کی بھی نشاندہی کی۔ 5 جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس میں آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب جائزوں اور سرکاری رقوم کی آمد نے اہم کردار ادا کیا۔ مرکزی بینک کے مطابق جون کے اختتام تک ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ مہنگائی کے حوالے سے کئی خطرات بدستور موجود ہیں، جن میں شامل ہیں.عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کے نرخوں میں ممکنہ ردوبدل ،موسمی حالات کے باعث خوراک کی فراہمی پر دباؤ ،علاقائی و عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال شا مل ہے مرکزی بینک کے مطابق ان عوامل کی وجہ سے مہنگائی کے منظرنامے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔




