Supreme Court

71 سالہ قانونی جنگ کے بعد بیوہ اور دو بیٹیوں کو وراثت کا حق مل گیا

اسلام آباد (  ویب نیوز )

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 71 سال تک جاری رہنے والی قانونی جنگ کے بعد ایک بیوہ اور اس کی دو بیٹیوں کے وراثتی حقوق بحال کر دیے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تاریخی فیصلے میں قرار دیا کہ غیر ثابت شدہ زبانی ہبہ (تحفہ) کی بنیاد پر خواتین کو ان کے قانونی وراثتی حصے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے، نے ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے، جن میں خواتین وارثوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 17 اپریل 1955 کی انتقال (میوٹیشن) اور اس کی بنیاد پر ہونے والے تمام بعد کے لین دین کو درخواست گزار خواتین کے وراثتی حقوق کے خلاف غیر قانونی، کالعدم اور بے اثر قرار دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار بیوہ اور بیٹیاں، روشن ولد بورا کی جائیداد میں قابلِ اطلاق قانونِ وراثت کے مطابق اپنے اپنے حصے کی حقدار ہیں۔ عدالت نے محکمہ ریونیو کو ریکارڈ درست کرنے اور قانون کے مطابق ان کے حصص کا تعین کرکے علیحدہ کرنے کا بھی حکم دیا۔

نور محمد و دیگر بنام غلام حیدر و دیگر کیس کے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ محض مبینہ زبانی ہبے کی بنیاد پر خواتین کو وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جب تک ہبہ کا دعویٰ کرنے والا فریق آزاد اور قابلِ اعتماد شواہد کے ذریعے اس کے تمام قانونی تقاضے ثابت نہ کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریونیو ریکارڈ میں انتقال کا اندراج، طویل عرصے تک جائیداد پر قبضہ یا بعد کی ریونیو کارروائیاں بذاتِ خود زبانی ہبہ یا ملکیت کا ثبوت نہیں ہوتیں۔

عدالت نے کہا کہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری اسی فریق پر عائد ہوتی ہے جو اس کا دعویٰ کرتا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں اس دعوے کے نتیجے میں بیوہ اور بیٹیوں کو ان کے اسلامی اور قانونی وراثتی حقوق سے محروم ہونا پڑے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ خواتین وارثوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ مبینہ زبانی ہبہ کے نتیجے میں ان کی ملکیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی یا انہوں نے اپنی مرضی اور مکمل آگاہی کے ساتھ اپنے حقوق سے دستبرداری اختیار کی تھی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے 1955 کے انتقالِ ہبہ کو زبانی ہبہ کا حتمی ثبوت سمجھ کر غلطی کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق انتقال صرف ریونیو اور مالیاتی مقاصد کے لیے ہوتا ہے، یہ نہ تو ملکیت پیدا کرتا ہے اور نہ ہی ختم کرتا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ بعد میں ہونے والی اراضی کی یکجائی (لینڈ کنسولیڈیشن)، زمین کے تبادلے، نجی تقسیم یا دیگر ریونیو اندراجات اس بات کا ثبوت نہیں بن سکتے کہ 1955 میں واقعی ایک قانونی زبانی ہبہ ہوا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ صرف طویل عرصے تک قبضہ بھی زبانی ہبہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ جائیداد پر قابض شخص پہلے ہی شریک وارث کی حیثیت سے اس پر قابض ہو سکتا ہے۔

عدالت نے اس قانونی اصول کی دوبارہ توثیق کی کہ ایک شریک وارث کا قبضہ عمومی طور پر تمام شریک وارثوں کی جانب سے تصور کیا جاتا ہے، جب تک واضح اور غیر مبہم شواہد سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ دیگر وارثوں کے حقوق صراحتاً مسترد کر دیے گئے تھے۔

خواتین کے وراثتی حقوق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کو اسلامی قانون اور عوامی پالیسی دونوں کے تحت خصوصی تحفظ حاصل ہے۔

عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جعلی زبانی ہبوں، فرضی دستاویزات یا ریونیو ریکارڈ میں ردوبدل کے ذریعے خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کی کوششوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں، اور ایسے دعوے صرف تاخیر یا تکنیکی اعتراضات کی بنیاد پر مسترد نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ بعض مقدمات میں مدتِ سماعت (Limitation) اہم ہو سکتی ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مبینہ زبانی ہبہ قانون کے مطابق ثابت ہوا ہے یا نہیں۔ اگر ہبہ ثابت نہ ہو تو خواتین کو صرف پرانے انتقال، طویل قبضے یا بعد کی ریونیو کارروائیوں کی بنیاد پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ کوئی بھی رسم، رواج، انتظام یا طریقہ کار جو کسی خاتون وارث کو اس کے قانونی حصے سے محروم کرے، نہ صرف اسلامی احکامات کے منافی ہے بلکہ آئین میں دیے گئے مساوات، انسانی وقار، سماجی انصاف اور جائیداد کے تحفظ کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔

عدالت نے کہا کہ اس ذمہ داری کا بوجھ صرف ریاست پر نہیں بلکہ خاندانوں، برادری کے رہنماؤں، علماء، مقررین، وکلاء، ریونیو حکام اور سول سوسائٹی پر بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حقوق نہ کمزور کیے جائیں اور نہ ہی سلب ہونے دیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف قانونی نہیں بلکہ معاشرتی بھی ہے۔ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا عمل اکثر عدالتوں سے پہلے گھروں، خاندانوں اور معاشروں میں شروع ہوتا ہے، جہاں روایت، خاندانی عزت یا سماجی مصلحت کے نام پر خواتین سے ان کے مذہبی اور قانونی حقوق قربان کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

مقدمے کا پس منظر

متنازعہ جائیداد کے مالک روشن ولد بورا کا انتقال 1955 میں ہوا۔ 4 اپریل 1955 کو ان کے قانونی ورثاء کے حق میں وراثتی انتقال درج کیا گیا۔

اسی روز ایک اور انتقال اس مبینہ زبانی ہبے کی بنیاد پر درج کیا گیا، جس کے مطابق بیوہ اور بیٹیوں نے اپنی وراثت مرحوم کے دو بیٹوں کے حق میں ہبہ کر دی تھی۔ دونوں انتقالات کی منظوری 17 اپریل 1955 کو دی گئی۔

بیوہ اور بیٹیوں کا مؤقف تھا کہ ایسا کوئی زبانی ہبہ کبھی نہیں ہوا اور دوسرا انتقال انہیں ان کے قانونی وراثتی حقوق سے محروم کرنے کے لیے دھوکہ دہی سے منظور کیا گیا۔

بعد ازاں بیٹوں اور ان کے جانشینوں نے جائیداد اپنے قبضے میں رکھتے ہوئے مختلف تبادلوں اور ہبہ کی بنیاد پر زمین منتقل کر دی۔

خواتین وارثوں کا دعویٰ ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا تھا، جبکہ ان کی اپیل اور لاہور ہائی کورٹ میں دائر سول ریویژن بھی خارج کر دی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے اب تمام سابقہ فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے بیوہ اور ان کی دو بیٹیوں کے وراثتی حقوق بحال کر دیے ہیں۔