ایرانی تیل فروخت کا امریکی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا.امریکی فیصلے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے بعد برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

(امریکہ ایران فوجی کشیدگی ) جنوبی ایرانی  ساحلی علاقوں پر بمباری

بندر عباس، سیرک اور وزن میں دھماکے، آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے بعد کارروائی کی، امریکی سینٹرل کمانڈ..اس شدید ترین فوجی کشیدگی کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران پر معاشی شکنجہ بھی کس دیا ہے  ایرانی خام تیل کی برآمدات پر 17 جولائی سے دوبارہ مکمل پابندیاں عائد کردیں

امریکی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری اور سعودی عرب کے تین تیل بردار ٹینکرز پر ایرانی حملوں کا براہِ راست اور جواب ہے۔ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے امریکی بمباری کو امن معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے

آبنائے ہرمز اور لبنان کی صورتِحال عبوری معاہدے کو غیر مؤثر بنا رہی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے بیان جاری میں کہا گیا کہ امریکی اقدامات بشمول ایران کے تیل کی فروخت کے لائسنس کی منسوخی اور نئے فوجی حملے نے موجودہ جنگ بندی کے کچھ حصوں کو ’’غیر موثر‘‘ بنا دیا ہے۔ ایران

واشنگٹن/ تہران(ما نیٹرنگ ڈیسک ) امریکہ نے جنگ بندی اور مذاکرات کے باوجودبدھ کو علی الصبح جنوبی ایران کے متعدد ساحلی شہروں پر شدید فضائی حملے کردئیے، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق بندر عباس، سیرک اور جزیرہ قشم میں امریکی بمباری کے بعد پے در پے زوردار دھماکے سنے گئے ہیں، جہاں شہری اور تجارتی گھاٹوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں کئی ماہی گیری کی کشتیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائی افواج نے جنوبی ایران میں تہران کے اہم میزائل لانچنگ پیڈز، ساحلی نگرانی کے نظام اور ڈرون مراکز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری اور سعودی عرب کے تین تیل بردار ٹینکرز پر ایرانی حملوں کا براہِ راست اور جواب ہے۔ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے امریکی بمباری کو امن معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے بھرپور جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس شدید ترین فوجی کشیدگی کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران پر معاشی شکنجہ بھی کس دیا ہے اور امریکی وزارتِ خزانہ نے ایرانی خام تیل کی برآمدات پر 17 جولائی سے دوبارہ مکمل پابندیاں عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جنگی صورتحال اور امریکی پابندیوں کی بحالی کی خبریں سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر شدید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جس نے عالمی معیشت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

دوسرا انٹرو

اسلام آباد (ما نیٹرنگ ڈیسک ): امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت کے لیے دیا گیا لائسنس منسوخ کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کی عالمی منڈی میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف تیل سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کرتے ہوئے ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا جنرل لائسنس واپس لے لیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد کیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو آئندہ دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن، نقل و حمل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 امریکی صدر   نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، بہت زیادہ وقت ضائع کیا جا چکا اور اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے متعلق پالیسی پر مزید تاخیر کی گنجائش نہیں اور آئندہ اقدامات امریکی مفادات اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بہت زیادہ وقت ضائع ہو چکا ہے اور اب فیصلہ کن اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے بیان میں آئندہ ممکنہ اقدامات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق ایسے بیانات مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

تیسرا انٹرو

تہران: (مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور لبنان کی صورتِحال عبوری معاہدے کو غیر مؤثر بنا رہی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے بیان جاری میں کہا گیا کہ امریکی اقدامات بشمول ایران کے تیل کی فروخت کے لائسنس کی منسوخی اور نئے فوجی حملے نے موجودہ جنگ بندی کے کچھ حصوں کو ’’غیر موثر‘‘ بنا دیا ہے۔

کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا تسلسل بھی جاری ہے، آبنائے ہرمز میں گزرگاہ صاف کرنے کے انتظامات میں مداخلت عبوری جنگ بندی کو ناقابل عمل بنا رہی ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں خطے کی اقوام کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اپنی سرزمین کو ایران پر نئے امریکی حملوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب ایران نے کہا کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں۔

قبل ازیں قطر کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیئے جانے کے بعد ایران نے قطری الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حیران کن قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کیلئے پُرعزم ہے اور اس کے انتظام سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔