امریکا ایران کشیدگی .. فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں . وزیراعظم شہباز شریف
وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں جانب سے دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مؤثر بنانےاور خطے میں امن و استحکام کے فروغ، اعلیٰ سطحی رابطوں کو برقرار رکھنے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اسلام آباد: (خصوصی رپورٹر ) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تہران کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت اور ایرانی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
وزیراعظم نے خلیج میں حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دیانتدار اور مخلص ثالث و سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور ایرانی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔
اسکندر مومنی نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سرکاری حکام پر مشتمل وفد کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا جن کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے منگل کے روز پاکستان اور ایران کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں جانب سے دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے تجارت، اقتصادی روابط اور علاقائی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات میں سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
دونوں فریقوں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ، اعلیٰ سطحی رابطوں کو برقرار رکھنے اور باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایرانی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا۔ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران ان کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر داخلہ نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پاکستان مونومنٹ کا دورہ کیا۔
وفاقی کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اسکندر مومنی نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
دورے کے دوران انہیں پاکستان مونومنٹ کی تاریخی اہمیت پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اور تحریکِ پاکستان کے دیگر رہنماؤں کی یادگاروں کا بھی مشاہدہ کیا۔
ایرانی وزیر داخلہ نے شکرپڑیاں سے اسلام آباد شہر اور مارگلہ کی پہاڑیوں کا نظارہ بھی کیا۔
بعد ازاں انہوں نے پولیس لائنز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں ان کے اعزاز میں خصوصی پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔
انہوں نے وزیر مملکت طلال چوہدری کے ہمراہ پریڈ کا معائنہ کیا اور اسلام آباد پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے پولیس اہلکاروں میں انعامات بھی تقسیم کیے، جبکہ انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس نے انہیں پاکستان اور ایران کے قومی پرچم بطور یادگار پیش کیے۔





