سپر (پنجاب خیبرپختونخوا بارشیں) 43 افراد جاں بحق، 177 زخمی، (کئی گھر منہدم)
پنجاب کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، سیلابی ریلے میں بہنے یا پھنسے ہونے سے متعلق کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ بارشوں کے باعث اربن و فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مکانات کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے حادثات رونما ہوئے جس میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 23 زخمی ہوئے ہیں۔ بارشوں سے 37 گھر متاثر، 8 مکمل منہدم اور 29 کو جزوی نقصان پہنچا۔
لاہور، پشاور: ( نمایندگان ) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات بارے رپورٹ جاری کر دی گئی، حادثات میں اب تک مجموعی طور پر 43 افراد جاں بحق ہوچکے، جبکہ کئی گھر منہدم ہوگئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، سیلابی ریلے میں بہنے یا پھنسے ہونے سے متعلق کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
رواں سال مون سون کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 2، عمارات گرنے سے 15، کرنٹ لگنے سے 3 اور پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، مون سون بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے جبکہ ایک مویشی ہلاک ہوا۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بارشوں کے باعث اربن و فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مکانات کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے حادثات رونما ہوئے جس میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 23 زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 9 مرد، 10 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 5 خواتین، 7 بچے شامل ہیں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے 37 گھر متاثر، 8 مکمل منہدم اور 29 کو جزوی نقصان پہنچا۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر میں پیش آئے، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، ٹانک، تورغر،کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان بھی متاثر ہوئے۔
اسلام آباد: (خصوصی رپورٹر )صدر مملکت آصف علی زرداری نے مون سون بارشوں کے پیش نظر تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔
اپنے بیان میں صدر مملکت نے جان و مال کے تحفظ کیلئے ریسکیو اور امدادی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور مقامی ادارے مکمل رابطے میں رہیں۔
انہوں نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور آبی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی اور نشیبی علاقوں کو ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر پیشگی تیاریوں کا حکم دیا۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ حساس علاقوں میں ریسکیو وسائل اور امدادی سامان پیشگی تعینات کیا جائے، سیاحوں اور مقامی آبادی کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عوام موسمی انتباہات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
صدر مملکت نے بارشوں سے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ریسکیو اور ایمرجنسی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔






