حکومت  مدت پوری کرے گی۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بارہا کہا ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دوں گا۔ میں صدارتی نظام کی بات بھی نہیں کر رہا  میں وزیر داخلہ ہی رہوں گا وزیر خارجہ نہیں.صحافیوں سے گفتگو 

 ( عمران خان مستقبل )  فیصلہ عدالتیں کریں گی. محسن  نقوی (  کاکروچ اکٹھے  ہو گے سسٹم  الٹ سکتے  ہیں )
 نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا، نوجوان چاہتے ہیں سسٹم کو ٹھیک کیا جائے، انہیں جائز طریقے سے ملازمت ملے، نوجوان نسل نوکریاں اور اپنا حق مانگتی ہے. ۔اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب
 وزیراعظم شہباز شریف 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں، وہ 18 گھنٹے بھی کام کریں تو صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہوتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا، ہم کیوں صرف سیاسی جماعت کی سوچ تک رہ گئے ہیں۔
 نئے یونٹ بنانے سے نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی، تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، نئے صوبوں سے لے کر ملک کے ایک ایک ایشو کو حل کرنا پڑے گا، جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے ملک اسی حالت میں رہے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر ): وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ محسن نقوی نے پاکستان کے پہلے اکنامک سمٹ میں شرکت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ امریکا سے جتنے مرضی تعلقات اچھے ہو جائیں لیکن ملکی نظام ٹھیک نہ ہو تو فائدہ نہیں، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بارہا کہا ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ نظام کو بہتر بنانے کیلیے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا ہوگا، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کو بھی نظام بہتر کرنے میں اکٹھا ہونا پڑے گا، اس نظام کو بہتر بنائے بغیر اب گزارا نہیں، اس وقت ہر سیاسی جماعت صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہے۔

محسن نقوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں صدارتی نظام کی بات بھی نہیں کر رہا حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، میں وزیر داخلہ ہی رہوں گا وزیر خارجہ بننے نہیں جا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم آفس میں بھی ایک فائل ٹائم پر نہیں ہو پاتی، ایک فائل کو 4 سے 5 جگہوں پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اختیارات ہمیں نچلی سطح پر دینے ہوں گے۔

عمران خان کی رہائی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے محسن نقوی نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے فیصلہ عدالتیں کریں گی۔

آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کشمیر کا معاملہ کشمیری حکومت دیکھ رہی ہے اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں۔

قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کا حل ہیں، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا۔ پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کوشش ہوتی ہے سیاسی تقریر نہ کروں، آج انہیں تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے شرکا نے اپنے مسائل بتائے، جس سسٹم کے اندر ہم رہ رہے ہیں وہ کولیپس کر چکا ہے، مانیں یا نہ مانیں، ہم سب جمہوریت چاہتے ہیں اور جمہوریت کے بڑے سپورٹر ہیں، جمہوریت کے اندر بھی تین، چار نظام ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے سسٹم میں اصلاحات ضروری ہیں، سیاسی نظام چلانے والے بھی اسی ہال میں موجود ہیں اور سیاسی نظام کو فنڈنگ کرنے والے بھی یہی بیٹھے ہیں، کوئی کسی مجبوری اور کوئی کسی مجبوری میں فنڈنگ دیتا ہے، جس دن آپ لوگوں نے فیصلہ کر لیا یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا، اس نظام میں ہر چیز بری نہیں ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عام آدمی کو بنیادی سہولیات چاہییں جو ہم نہیں دے پاتے، آج بھی لوگ دس گھنٹے سفر کر کے عدالت جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے یونٹ بنانے سے نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی، تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، نئے صوبوں سے لے کر ملک کے ایک ایک ایشو کو حل کرنا پڑے گا، جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے ملک اسی حالت میں رہے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا، نوجوان چاہتے ہیں سسٹم کو ٹھیک کیا جائے، انہیں جائز طریقے سے ملازمت ملے، نوجوان نسل نوکریاں اور اپنا حق مانگتی ہے، یہ کاکروچ اگر اکٹھا ہو گیا تو ہر چیز الٹ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس ملک کی بنیاد کو ٹھیک نہیں کریں گے یہ ملک ایسا ہی رہے گا، سیاسی نظام میں بزنس کمیونٹی کو بھی آگے آنا ہوگا، بزنس کمیونٹی کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا ورنہ اسی طرح چیزیں چلتی رہیں گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ترقی کے عمل کو تیزی سے بڑھانے کے لیے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی طرف جانا ہوگا، بزنس مین کو لیڈنگ رول ادا کرنا ہوگا، بزنس کمیونٹی فنڈنگ تو کرتی ہے مگر سیاست میں نہیں آتی، نظام کی تنظیم نو کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں، وہ 18 گھنٹے بھی کام کریں تو صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہوتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا، ہم کیوں صرف سیاسی جماعت کی سوچ تک رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خدارا سیاسی جماعتیں ملک کا اندرونی نظام بھی ٹھیک کریں، جب تک سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے بہتری نہیں آئے گی، نئے صوبوں کے معاملے کو پارلیمنٹ اور یونیورسٹیز میں لانا چاہیے۔

محسن نقوی نے کہا کہ وہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن سپورٹ کا یقین دلاتے ہیں، پوری امید ہے کہ اگر ہم سب متحد ہوں گے تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔