غزہ کے لیے نئی امن کونسل کی رکنیت، امریکہ کی کڑی شرائط کیا ہیں؟
رکنیت کے لیے ہر ملک کو ایک ارب ڈالر رقم دینا ہوگی ٹرمپ کو کونسل کے فیصلوں کا مکمل اختیار ہوگا
واشنگٹن (ویب نیوز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ غزہ کی پٹی کے لیے قائم کی جانے والی نئی امن کونسل کے ہر ممبر ملک سے ایک ارب ڈالر مالی معاونت بھی حاصل کرے گی۔ ٹائمز اف اسرائیل کے مطابق امریکی صدر کو کونسل کے فیصلوں میں کلیدی اختیار حاصل ہوگا مسودے کے مطابق ہر رکن ملک کو کونسل کی رکنیت برقرار رکھنے کے لیے کم از کم ایک ارب ڈالر کی مالی معاونت دینا ہوگی۔مسودے کے مطابق امن کونسل کی پہلی صدارت خود ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہوگی جنہیں غیر معمولی اختیارات حاصل ہوں گے۔ ان اختیارات میں رکنیت کی دعوت دینا اور فیصلوں کی توثیق شامل ہے۔ اگرچہ فیصلے بظاہر رکن ممالک کی اکثریتی رائے سے ہوں گے اور ہر ملک کو ایک ووٹ دیا جائے گا تاہم ان فیصلوں کا حتمی انحصار امریکی صدر کی منظوری پر ہوگا۔دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ رکن ممالک کی مدت رکنیت تین سال ہوگی جس میں توسیع کا اختیار بھی ٹرمپ کے پاس ہوگا۔ تاہم یہ مدت ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جو پہلے سال کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد کی نقد معاونت فراہم کریں گے۔مسودے کے مطابق جیسے ہی تین ممالک اس منشور کی توثیق کریں گے امن کونسل ایک باضابطہ ادارہ بن جائے گی۔ اس کونسل کو ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد استحکام کو فروغ دینا، گڈ گورننس کی بحالی اور تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔ دستاویز امریکی صدر کو کونسل کی سرکاری مہر کی منظوری اور مالی وسائل کے دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امن کونسل کے باضابطہ اجلاس کم از کم سال میں ایک بار ہوں گے جبکہ دیگر اجلاس صدر کے طے کردہ وقت اور مقام پر منعقد کیے جا سکیں گے اور ایجنڈا بھی انہی کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ اس کے علاوہ امن کونسل اپنے ایگزیکٹو بورڈ کے ساتھ غیر ووٹنگ اجلاس ہر تین ماہ میں کم از کم ایک بار منعقد کرے گی۔مسودہ امریکی صدر کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ کسی بھی رکن کو معزول کر سکیں جب تک دو تہائی رکن ممالک اس کی مخالفت نہ کریں۔ اسی طرح صدر کو کسی بھی وقت کونسل کی صدارت کے لیے اپنا جانشین مقرر کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔





